
ممبئی ، 14 اپریل (ہ س)۔ شرڈی پولیس کی جانب سے مبینہ فرضی بابا اشوک کھرات کیس میں پرتِبھّا چاکنکر سے تقریباً آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کے بعد معاملہ مزید گرم ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت پر شیوسینا (یو بی ٹی) کی نائب رہنما سشما اندھارے نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر پرتِبھّا چاکنکر کس کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ سمتا پت سنستھا میں پرتِبھّا چاکنکر اور ان کے خاندان کے نام پر چار بینک اکاؤنٹس موجود ہیں، جن کے ذریعے دو کروڑ سے زائد کا لین دین ہوا ہے۔ اس معاملے میں ان کے بیٹے تنمے کا بیان بھی درج کیا گیا ہے۔ تاہم پرتِبھّا چاکنکر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے نام سے کھولے گئے اکاؤنٹس اور دستخط جعلی ہیں، اور وہ خود میڈیا رپورٹس دیکھنے کے بعد تفتیش میں شامل ہونے کے لیے آئی ہیں۔
دوسری جانب سشما اندھارے نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی کارروائی پر بھی سوالات اٹھائے اور الزام لگایا کہ مشتبہ افراد کو خصوصی رعایت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو چھ نکات پر گھیرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے یہ کہا تھا کہ کھرات کا کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) جعلی ہے تو سماجی کارکن انجلی دمانیا کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ اگر دمانیا کے الزامات درست ہیں تو چاکنکر بہنوں کو مبینہ طور پر ’’رائل ٹریٹمنٹ‘‘ کیوں دیا جا رہا ہے۔
اس معاملے نے سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے اور مختلف بیانات کے بعد تفتیشی عمل اور سرکاری رویے پر بھی سوالات کھڑے ہو رہے ہیں، جبکہ پولیس کی جانب سے کیس کی مزید جانچ جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے