
تہران،14اپریل(ہ س)۔
آج منگل کے روز پانچ باخبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کی مذاکراتی ٹیمیں آئندہ چند دنوں میں دوبارہ اسلام آباد آ سکتی ہیں۔یہ امکان ایسے وقت میں ظاہر کیا گیا ہے جب 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی بات چیت کا حالیہ دور بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گیا تھا۔ایک سینئر ایرانی ذریعے نے بتایا کہ ابھی تک کسی حتمی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا اور مذاکرات کاروں نے جمعہ سے اتوار تک کے دنوں کو کھلا رکھا ہے۔
پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کے ایک اہلکار کے مطابق آئندہ مذاکراتی دور اسی ہفتے یا اگلے ہفتے کے آغاز میں منعقد ہو سکتا ہے، جیسا کہ خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا۔دو باخبر پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد اگلے مذاکراتی دور کے وقت کے حوالے سے دونوں فریقوں سے رابطے میں ہے، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بات چیت ہفتے کے آخر میں ہو سکتی ہے۔ایک سینئر پاکستانی سرکاری عہدیدار نے کہا: ہم نے ایران سے رابطہ کیا اور ہمیں مثبت جواب ملا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیار ہے۔
گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز اسلام آباد میں ہونے والا اجلاس، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کو حل کرنا تھا، دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے چند دن بعد منعقد ہوا۔یہ گزشتہ دس برس سے زائد عرصے میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان پہلا براہِ راست رابطہ تھا، جبکہ 1979 کے بعد یہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ بھی تھا۔اس حالیہ دورِ مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی مجلسِ شوریٰ کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے اپنے اپنے وفود کی قیادت کی۔مذاکرات میں مختلف اہم امور پر بات چیت کی گئی، جن میں آبنائے ہرمز بھی شامل تھی، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے اور جسے ایران نے مو¿ثر طور پر بند کر رکھا ہے، جبکہ امریکا نے اسے دوبارہ کھولنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔اس کے علاوہ ایرانی جوہری پروگرام اور تہران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں بھی زیرِ بحث آئیں۔مذاکرات کے اختتام پر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم ایک نہایت سادہ تجویز اور ایک ایسے فریم ورک کے ساتھ جا رہے ہیں، جو ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے۔انہوں نے مزید کہا: اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا ایرانی فریق اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔
اس تناظر میں ایرانی اور امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ امریکا نے یورینیم کی افزودگی (Enrichment) کو 20 سال کے لیے مکمل طور پر روکنے کی پیشکش کی۔دوسری جانب ایرانی وفد نے زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک افزودگی معطل کرنے کی تجویز دی، یہی مو¿قف انہوں نے فروری 2026 میں جنیوا مذاکرات کے دوران بھی پیش کیا تھا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا۔کچھ دیگر ذرائع کے مطابق ایران نے یورینیم افزودگی کو دس سال سے کم مدت کے لیے منجمد کرنے کی تجویز بھی دی۔اسلام آباد مذاکرات میں دیگر اہم امور بھی زیرِ بحث آئے، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل تھا، تاہم ایران نے اس شرط کو جنگ کے مکمل خاتمے سے مشروط کر دیا۔اسی طرح امریکی وفد نے ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ملک سے باہر منتقل کرنے کی تجویز دی، لیکن ایران نے اس پر اصرار کیا کہ ایندھن ملک کے اندر ہی رہے۔البتہ انہوں نے جیسا کہ جنیوا میں بھی کہا تھا، اسے اس حد تک کم درجے کا کرنے کی پیشکش کی کہ اسے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔ان تمام نکات کے باوجود خطے میں حماس، حزب اللہ اور دیگر مسلح گروہوں کی ایرانی حمایت بند کرنے کے معاملے پر کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان جس نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ دوسرے مذاکراتی دور کے انعقاد اور 8 اپریل کو اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔یہ جنگ بندی 28 فروری کو شروع ہونے والی 40 روزہ کشیدگی کے بعد عمل میں آئی تھی۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباو¿ بڑھانے کے لیے گزشتہ روز اس کی بندرگاہوں پر مکمل بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) کا اعلان کیا۔جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کا ملک قانونی دائرے میں رہتے ہوئے امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے ،تہران پہلے ہی معاہدے اور مکمل جنگ بندی کے لیے اپنی شرائط واضح کر چکا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan