خواتین کے ریزرویشن پر پارلیمنٹ میں بحث سے پہلے وزیراعظم کا خط، ملک کی ناری شکتی سے حمایت طلب کی
نئی دہلی، 14 اپریل (ہ س)۔ وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو خواتین کے تحفظات (ریزرویشن) کے حوالے سے پارلیمنٹ میں مجوزہ آئینی ترمیم سے پہلے ملک کی ناری شکتی کو مخاطب کرتے ہوئے ایک مفصل خط لکھا ہے۔ وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خط شیئر کرتے
وزیراعظم نریندر مودی کا خط


نئی دہلی، 14 اپریل (ہ س)۔ وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو خواتین کے تحفظات (ریزرویشن) کے حوالے سے پارلیمنٹ میں مجوزہ آئینی ترمیم سے پہلے ملک کی ناری شکتی کو مخاطب کرتے ہوئے ایک مفصل خط لکھا ہے۔ وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خط شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں سال 2029 کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات سے خواتین کے تحفظات کو یقینی بنانے کے فیصلے کی ستائش کر رہی ہیں۔

وزیراعظم نے 14 اپریل کو ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کے یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے مساوات اور شمولیت کی اقدار پر چلتے ہوئے 16 اپریل سے پارلیمنٹ میں ’’ناری شکتی وندن ادھینیم‘‘ پر بحث شروع ہوگی۔ انہوں نے آنے والے پارلیمانی اجلاس میں اس ترمیم کی منظوری کے لیے ہم وطنوں، بالخصوص خواتین سے آشیرواد اور حمایت طلب کی۔ وزیراعظم نے یقین ظاہر کیا کہ پورا ایوان مل کر اس تاریخی قدم کو منظور کرے گا، جس سے قانون ساز اداروں میں خواتین کی شرکت یقینی ہوگی۔

خط میں وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی خواتین سائنس، جدت طرازی، کھیل، تعلیم، فن اور انٹرپرینیورشپ جیسے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں اور اپنے ان مٹ نقوش چھوڑ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی بڑھتی ہوئی شراکت کو دیکھتے ہوئے پالیسی سازی میں بھی ان کا حصہ بڑھانا ضروری ہے۔

انہوں نے ذکر کیا کہ خواتین کو ووٹ دینے کا حق آزادی کے ساتھ ہی مل گیا تھا، جبکہ کئی دوسرے ممالک میں اس کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا۔ اس کے باوجود، قانون ساز اداروں میں ان کی مناسب شراکت کو یقینی بنانے کی کوششیں اب تک مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہیں۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ سال 2047 تک وکست بھارت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملک کی آدھی آبادی، یعنی ناری شکتی، فیصلہ سازی کے عمل میں فعال طور پر حصہ لے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 2029 کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات خواتین کے تحفظات کے ساتھ ہوتے ہیں، تو جمہوریت مزید مضبوط ہوگی۔ اس سمت میں کسی بھی قسم کی تاخیر کو انہوں نے بدقسمتی قرار دیتے ہوئے اسے ناری شکتی کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔ وزیراعظم نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے ارکانِ پارلیمنٹ کو خط لکھ کر اس تاریخی بل کی حمایت کے لیے آمادہ کریں، تاکہ پارلیمنٹ میں اسے منظور کرانے میں وسیع تعاون حاصل ہو سکے۔ خط کے آخر میں وزیراعظم نے تمام ہم وطنوں کو آنے والے تہواروں کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کی تمنا کی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande