
حیدرآباد، 14 اپریل (ہ س)۔آنے والے دنوں میں حیدرآباد میں آم کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے کیونکہ مغربی ایشیا کے جاری بحران کی وجہ سے پھلوں کی برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
برآمد کنندگان اس وقت صورتحال کے نارمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
ہرسال تلنگانہ آم کومختلف ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات،امریکہ اورکینیڈا کوبرآمد کرتا ہے۔ تاہم جنگ کی وجہ سے پھل کی مانگ میں کمی آئی ہے۔ اوسطاً ہرسال ہندوستان تقریباً 30 ہزارمیٹرک ٹن آم برآمد کرتا ہے اوران میں سے 10ہزارمیٹرک ٹن سے زیادہ کا سب سے زیادہ حصہ متحدہ عرب امارات کو جاتا ہے۔ تاہم،برآمدات کی بڑھتی ہوئی لاگت اورخطے میں غیریقینی صورتحال کی وجہ سے، برآمدات متاثر ہونے کا امکان ہے،اوراس کے نتیجے میں نہ صرف حیدرآباد بلکہ ہندوستان کے دیگرشہروں میں بھی آم کی قیمتوں میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب مال برداری کی شرح میں اضافے کی وجہ سے امریکہ اورکینیڈا جیسی دیگرممالک کی برآمدات بھی متاثرہورہی ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق برآمدات میں 20-30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اگرچہ اس سے مقامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوجائیں گی، لیکن برآمد کنندگان اس بات کا یقین نہیں کرپارہے ہیں کہ آیا پھلوں کا اعلیٰ معیار مقامی طورپرخریدارتلاش کرسکےگا۔
حیدرآباد میں آم کی قیمتیں
فی الحال بے نشان کی مقبول قسم 150-200 روپے فی کلوکے درمیان فروخت ہورہی ہے۔ رسال آم، جواپنی مٹھاس اور رسیلے ذائقے کے لیے مشہور ہے،حیدرآباد میں 100-150 روپے فی کلومیں دستیاب ہیں۔
اس شہرکوتلنگانہ، آندھراپردیش اور کرناٹک کے اضلاع سے آم کی متنوع اقسام ملتی ہیں۔
جیسا کہ مغربی ایشیا میں بحران جاری ہے، حیدرآباد اور ہندوستان کے دیگر شہروں میں رسد میں اضافے کی وجہ سے آم کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق