

وزیراعظم کے ذریعے لیا گیا فیصلہ 21 ویں صدی کا سب سے اہم فیصلہ ثابت ہوگا: وزیراعلیٰ
اندور، 14 اپریل (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی پہل کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے ناری شکتی کو لوک سبھا اور اسمبلیوں میں 33 فیصد تحفظات (ریزرویشن) دلانے کا عہد لیا ہے۔ یہ 21 ویں صدی کا سب سے بڑا فیصلہ ہے۔ اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد ناری شکتی کی بااختیاری تیزی سے ہوگی۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو منگل کو اندور کے پرسپر نگر میں واقع لتا منگیشکر آڈیٹوریم میں منعقدہ ’ناری شکتی وندن سمیلن‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک تیزی سے ترقی اور وکاس کی راہ پر گامزن ہے۔ سال 2047 میں ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانا ہے۔ وزیراعظم مودی خواتین کے مفاد میں مسلسل فیصلے لے کر خواتین کو حقوق دینے کے ساتھ ساتھ انہیں بااختیار بنا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کرتے ہوئے مسلم خواتین کو تین طلاق سے نجات دلا کر ان کے مفاد میں نئی تاریخ رقم کی، تو وہیں ایودھیا میں بھگوان شری رام کا پرشکوہ مندر بنایا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اندور دیوی اہلیہ بائی کا شہر ہے اور سُر کوکلا لتا منگیشکر کی جائے پیدائش ہے۔ آج ہم جس ہال میں موجود ہیں وہ لتا منگیشکر کی یاد میں بنایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اگر ماں بیٹے کا رشتہ کسی کو بتانا ہو تو صرف یشودا میا کا نام لینے سے کرشن کنہیا کی یاد خود بخود تازہ ہو جاتی ہے۔ یشودا میا کے عہد کی انتہا ایسی تھی کہ انہوں نے اپنی اولاد کی جان کی فکر نہ کرتے ہوئے کنہیا کی پرورش کی۔ جب تک کنہیا ان کے پاس رہے، کبھی آنچ نہیں آنے دی۔ انہوں نے پنا دھائے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماں نے شاہی خاندان کے بچے کی جان کی حفاظت کے لیے اپنے جگر کے ٹکڑے کو آنکھوں کے سامنے قربان ہوتے دیکھا۔ وہیں، اندور میں بہتر نظامِ حکومت قائم کرنے والی لوک ماتا دیوی اہلیہ بائی ہولکر نے رعایا کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری زندگی وقف کر دی۔ جب پیشوا کی فوج ریاست پر حملہ کرنے آئی تو ماتا اہلیہ بائی نے فوج تیار کی، جس کی قیادت انہوں نے خود کی تھی۔ انہوں نے اپنی حکمت اور دانائی سے پیشواؤں کو خبردار کیا کہ بہنوں سے جنگ کرنے پر تاریخ میں اس کا نتیجہ کس طرح دیکھا جائے گا۔ بہنیں کبھی ہارنے والی نہیں ہیں، اگر ہار بھی گئیں تو پیشواؤں کے ماتھے پر کلنک لگے گا کہ انہوں نے پوری طاقت سے لڑتے ہوئے ریاست کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مہا کوشل کی رانی درگاوتی نے اکبر کے دورِ حکومت میں 52 جنگیں لڑیں اور تمام میں فتح حاصل کی۔ آخری جنگ میں دشمن فوج نے توپ کا استعمال کیا۔ تب رانی نے اپنے فیل بان (مہاوت) کو حکم دیتے ہوئے خنجر سونپا اور کہا کہ میں آخری سانس تک جنگ کروں گی، اگر فوج شکست کی حالت میں آئے تو تم میرا قصہ تمام کر دینا۔ رانی درگاوتی نے ریاست کے تحفظ کے لیے خود کو قربان کر دیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں وندے ماترم کی توہین کر رہی ہیں۔ اسی طرح رام مندر کے وقت بھی سماج کو بانٹنے کی کوشش ہوئی تھی۔ جب سپریم کورٹ نے تین طلاق کو ختم کر دیا، تب بھی اپوزیشن پارٹی کی حکومت نے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کو پلٹ دیا تھا۔ وزیراعظم مودی کی قیادت میں سپریم کورٹ کے دو فیصلوں کو نافذ کروایا گیا ہے۔ وزیراعظم مودی نے مسلم بہنوں کو تین طلاق کے کلنک سے نجات دلائی۔ بدلتے ہوئے دور کے ہندوستان میں ایودھیا میں بھگوان شری رام کا پرشکوہ مندر بن کر تیار ہوا ہے۔
رکنِ اسمبلی مالنی گوڑ نے کہا کہ جہاں عورت کی پوجا ہوتی ہے، وہاں دیوتا بستے ہیں۔ سناتن ثقافت میں عورت کو ہمیشہ علم، طاقت اور خوشحالی کی علامت مانا گیا ہے۔ پنچایتی راج اداروں میں آدھی نشستوں پر خواتین کو تحفظات دینے کے لیے ریاستی حکومت شکریہ کی مستحق ہے۔ ناری شکتی وندن ادھینیم کے نفاذ پر ملک کی ہر بیٹی تاریخی فیصلوں میں اپنا کردار ادا کر پائے گی۔
لتا منگیشکر آڈیٹوریم میں منعقدہ پروگرام میں اسٹیج پر اندور کی خواتین نے انوکھی مثال پیش کی۔ پروگرام میں اسٹیج پر کئی شعبوں میں کام کرنے والی خواتین نے شرکت کی اور وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کے ساتھ اسٹیج کو رونق بخشی۔ اس دوران عوامی نمائندوں میں وزراء، ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی اور افسران سبھی ناظرین کی گیلری میں بیٹھے۔ پروگرام کی جگہ پر خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعے مختلف مصنوعات کی نمائش بھی لگائی گئی۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے مختلف اسٹالز پر جا کر خواتین کی تیار کردہ اشیاء کا معائنہ کیا۔
پروگرام میں رکنِ اسمبلی مالنی گوڑ نے کہا کہ ناری شکتی وندن ادھینیم کے پاس ہو جانے کے بعد خواتین کو لوک سبھا اور اسمبلی میں 33 فیصد تحفظات ملیں گے۔ پروگرام کا آغاز قومی گیت وندے ماترم کے اجتماعی گائن سے ہوا۔ پروگرام میں فن، ثقافت، صنعت اور ادب وغیرہ کے شعبوں سے وابستہ خواتین بڑی تعداد میں موجود تھیں۔
پروگرام میں مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال ترقیات ساوتری ٹھاکر، وزیر برائے آبی وسائل تلسی رام سلاوٹ، رکنِ پارلیمنٹ شنکر لالوانی، ضلع پنچایت صدر رینا ستیش مالویہ، سابق وزیر اوشا ٹھاکر، رکنِ اسمبلی مدھو ورما، گولو شکلا، ڈویژنل کمشنر ڈاکٹر سودام کھاڈے، کلکٹر شیوم ورما اور میونسپل کمشنر کشتیج سنگھل سمیت بڑی تعداد میں خواتین موجود تھیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن