بحری محاصرہ سے ایران کو یومیہ 43.5 کروڑ ڈالر نقصان کا خدشہ
تہران،14اپریل(ہ س)۔ ایران کے خلاف امریکی بحری محاصرے کے دوسرے روز بعض تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے ایرانی حکام کو یومیہ تقریباً 43.5 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس میں 27.6 کروڑ ڈالر کا نقصان برآمدات، بالخصوص خام تیل اور پیٹرو کیمیکلز کی مد
آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے میں مصروف : امریکی فوج


تہران،14اپریل(ہ س)۔

ایران کے خلاف امریکی بحری محاصرے کے دوسرے روز بعض تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے ایرانی حکام کو یومیہ تقریباً 43.5 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس میں 27.6 کروڑ ڈالر کا نقصان برآمدات، بالخصوص خام تیل اور پیٹرو کیمیکلز کی مد میں شامل ہے۔

فاو¿نڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے تجزیہ کار میاد مالکی کے مطابق ایران یومیہ 15 لاکھ بیرل تیل برآمد کرتا ہے جس کی قیمت تقریباً 87 ڈالر فی بیرل ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایران کے 90 فی صد سے زائد تیل کی ترسیل جزیرہ خارگ سے ہوتی ہے۔ تاہم دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ نقصان کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکی محاصرہ کتنا سخت ہے اور کیا تہران اپنی برآمدات کو آبنائے ہرمز سے باہر جاشک بندرگاہ کی طرف موڑنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔

مبصرین کے مطابق اگر محاصرہ چند ہفتوں تک رہا تو اس کے اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایران کے پاس بحیرہ عمان میں 2.1 کروڑ بیرل کا ذخیرہ موجود ہے جو 10 سے 14 روز کی برآمدات کے لیے کافی ہے۔ اگرچہ ایرانی جانب سے 'جاشک' بندرگاہ استعمال کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، لیکن اس کی موجودہ صلاحیت (10 ہزار بیرل یومیہ) محاصرے سے بچنے کے لیے انتہائی کم ہے۔ سمندری برآمدات کے مکمل رک جانے کی صورت میں یومیہ 20 سے 35 کروڑ ڈالر یا اس سے بھی زیادہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔

ایران کی زیادہ تر غیر نفتی برآمدات جیسے پیٹرو کیمیکلز اور معدنیات جنوبی بندرگاہوں کے ذریعے چین اور ایشیا جاتی ہیں۔ اگرچہ نصف برآمدات زمینی راستوں سے پڑوسی ممالک (عراق، ترکیہ، افغانستان) کو جاتی ہیں، لیکن بڑا حصہ خلیج کی بندرگاہوں پر منحصر ہے۔ بحیرہ عمان پر واقع 'چابہار' بندرگاہ متبادل تو ہے مگر اس میں آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کو زائل کرنے کی کافی گنجائش موجود نہیں ہے۔ایران سالانہ 4 کروڑ ٹن سامان درآمد کرتا ہے جس میں سے 2.5 کروڑ ٹن بنیادی ضروریات (خوراک، تیل، چارہ) پر مشتمل ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا محاصرے میں خوراک اور ادویات کو استثنا ملے گا یا نہیں۔ طویل محاصرے کی صورت میں برآمدی آمدنی میں سالانہ 100 ارب ڈالر کی کمی ہو سکتی ہے، جو جی ڈی پی کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ اس سے غیر ملکی کرنسی کی قلت، شرح مبادلہ میں ہوش ربا اضافہ اور بجٹ خسارہ سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

گذشتہ روز امریکی فوج نے واضح کیا کہ محاصرہ بحیرہ عمان اور بحیرہ عرب تک پھیلا دیا جائے گا۔ دوسری جانب اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایران نے خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ یاد رہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی یہ جنگ 40 روز تک جاری رہنے کے بعد 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی پر رکی تھی، تاہم حالیہ مذاکرات کی ناکامی نے صورتحال دوبارہ کشیدہ کر دی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande