
نوئیڈا، 14 اپریل (ہ س)۔ اتر پردیش کے نوئیڈا میں جاری فیکٹری ورکرز کے احتجاج نے منگل کو ایک نیا موڑ لے لیا جب گھریلو خادمائیں (نوکرانیوں) کے طور پر کام کرنے والی خواتین بھی اپنے مختلف مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں بطور مددگار کام کرنے والی ان خواتین نے زیادہ اجرت اور کام کے بہتر حالات کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ احتجاج کیا۔ خواتین کا کہنا تھا کہ انہیں صرف 2500 سے 3000 روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے اور پورے مہینے میں صرف دو چھٹیاں دی جاتی ہیں اور اگر وہ اس سے زیادہ لیتی ہیں تو ان کی رقم کاٹ لی جاتی ہے یا پھر ان پر چوری کا الزام لگایا جاتا ہے۔
تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرنے والی خواتین کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مقابلے ان کی اجرتیں بہت کم ہیں اور ان کے کام کے اوقات بہت لمبے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں مناسب چھٹیاں نہیں دی جاتیں۔ خواتین نے چار چھٹیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مہینے میں چار چھٹیاں چاہیے کیونکہ ہم اپنے بچوں کو وقت نہیں دے پاتے، جب وہ بیمار ہوتے ہیں تو ہم ان کی دیکھ بھال نہیں کر پاتے۔
ایک احتجاج کرنے والی خاتون شیوکماری نے کہا، ”آج کے آسمان چھوتی مہنگائی کے دور میں ڈھائی سے تین ہزار روپے ماہانہ کی تنخواہ پر گھر چلانا بہت مشکل ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ہر طرف مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے، گیس کی قیمت، راشن کی قیمت، اسکول کی فیس، سب کچھ بڑھ گیا ہے، اگر ان لوگوں کے بچے پرائیویٹ اسکول جاتے ہیں تو ہمارے کیوں نہیں؟ اس نے یہ بھی بتایا کہ اوور ٹائم کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ احتجاج کرنے والی خواتین سڑک پر جمع ہوکر نعرے لگا رہی تھیں اور اعلان کررہی تھیں کہ جب تک ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جاتا وہ کام پر واپس نہیں آئیں گی۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس، زون II، شیویہ گوئل نے بتایا کہ کلیو کاو¿نٹی، گڑھی چوکھنڈی، سیکٹر 121، اور سیکٹر 70 میں گھریلو خادمائیں (نوکرانیوں) نے اپنی اجرت بڑھانے کے لیے مظاہرہ کیا۔ حالات مکمل طور پر پرامن رہے اور امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ خواتین کا یہ احتجاج ایک دن بعد سامنے آیا جب فیکٹری ورکرز کے پرتشدد مظاہروں نے شہر بھر میں معمولات زندگی کو درہم برہم کر دیا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت میں اضافے کے اعلان کے باوجود، منگل کو نوئیڈا میں مزدوروں کا احتجاج جاری رہا، جس میں کچھ علاقوں میں پتھراو¿ اور توڑ پھوڑ کے واقعات رپورٹ ہوئے، اور کئی صنعتی علاقوں میں فیکٹریوں کے باہر احتجاج کیا گیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی