گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار دارا شکوہ پر کتاب کا اجرا، ہم آہنگی کی اہمیت پر گفتگو
علی گڑھ, 14 اپریل (ہ س)دارا شکوہ کی شخصیت علم، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک روشن مثال تھی، جنہوں نے مختلف مذاہب کے درمیان فکری پل قائم کرنے کی کوشش کی۔ ان خیالات کا اظہار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور اترپردیش حکومت میں
کتاب کا اجرا


علی گڑھ, 14 اپریل (ہ س)دارا شکوہ کی شخصیت علم، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک روشن مثال تھی، جنہوں نے مختلف مذاہب کے درمیان فکری پل قائم کرنے کی کوشش کی۔ ان خیالات کا اظہار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور اترپردیش حکومت میں ایم ایل سی پروفیسر طارق منصور نے کیا۔وہ آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخی 'سلطان جہاں منزل' کے کانفرنس ہال میں آج ڈاکٹر محمد فاروق خان کی تحقیقی تصنیف ''دارا شکوہ: زندگی، فلسفہ اور تخلیقات'' کی رسمِ اجراء کے سلسلے میں ایک پُر وقار علمی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ دارا شکوہ کا نظریہ ہی گنگا جمنی تہذیب کی اصل بنیاد ہے،وہ ایک ایسے شہزادے تھے جن کی فکر اور تحریریں آج بھی اتحاد، محبت اور انسانیت کا پیغام دیتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ دارا شکوہ نے صدیوں پہلے بین المذاہب مکالمے کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ ہندوستان کی ہمہ گیر ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے دارا شکوہ کے فلسفے کو سمجھنا ناگزیر ہے۔آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے آنریری جنرل سیکریٹری پروفیسر رضا اللہ خان نے کہا کہ جس گنگا جمنی تہذیب کو ہم آج عزیز رکھتے ہیں، اس کا بیج دارا شکوہ نے ہی بویا تھا۔ سابق پراکٹر پروفیسر وسیم علی اور ڈاکٹر عبدالحق نے بھی اس موقع پر کتاب کے مصنف ڈاکٹر محمد فاروق خان اور دارا شکوہ کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔مصنف ڈاکٹر محمد فاروق خان نے کتاب کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ دارا شکوہ ایک ایسے نظریہ کا نام ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے۔ ان کی تصانیف تصوف اور اپنیشدوں کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتی ہیں اور دو سمندروں کا ملاپ کا پیغام آج کے دور میں سب سے زیادہ اہم ہے۔تقریب کے آغاز میں نتن بھٹناگر نے مصنف کا شال پہنا کر استقبال کیا، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر فیضان الٰہی نے انجام دیے۔ اس موقع پرعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور شہر کے معززین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔۔۔۔۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande