
نوئیڈا، 14 اپریل (ہ س)۔ نوئیڈا، اترپردیش میں سوموار کو قومی راجدھانی علاقہ میں مزدوروں کا پرتشدد احتجاج ایک سوچی سمجھی سازش تھی اور پولیس اس کے پیچھے ہونے والے واقعات کی مکمل تحقیقات کرکے پوری سازش کو بے نقاب کرے گی۔
گوتم بدھ نگر کے پولس کمشنر لکشمی سنگھ نے منگل کو یہاں کہا کہ کارکنوں کے احتجاج کو منظم کرنے کے لیے نہ صرف متعدد واٹس ایپ گروپ بنائے گئے تھے بلکہ کیو آر کوڈ اسکینرز کا استعمال کرتے ہوئے کارکنوں کو بھی ان میں شامل کیا گیا تھا۔ پولیس کمشنر نے مزید کہا کہ پیر کو مختلف مقامات پر ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے سلسلے میں اب تک سات ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور 396 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کمشنر نے کہا، گزشتہ دو دنوں کے دوران، کئی واٹس ایپ گروپس بنائے گئے ہیں، جو کہ کیو آر کوڈز کو اسکین کرکے کارکنوں کو جوڑ رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سرگرمیوں کے پیچھے ایک منظم اور منصوبہ بند نیٹ ورک کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدامنی میں ملوث افراد کی نشاندہی کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے اور کارروائی جاری ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہجوم میں شامل ایسے عناصر کی نشاندہی کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے اور مستقبل میں مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔
پولیس کمشنر نے احتجاج کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کے پیچھے فنڈنگ کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ اگر یہ پایا جاتا ہے کہ انہیں ریاست یا ملک کے باہر سے مالی مدد ملی ہے تو مناسب کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی کچھ واٹس ایپ چیٹس ملی ہیں، جن میں لوگوں کو گھروں سے مرچ پاو¿ڈر لانے اور پولیس پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا جا رہا ہے۔ اس میں لکھا ہے، بھائیو، لاٹھیوں سے کچھ نہیں ہوگا، بس مرچ پاو¿ڈر لے آئیں، بس۔ میں اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مرچ پاو¿ڈر لائیں اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں۔ ایک اور نے لکھا کہ ’ہمارے مطالبات سننے تک ہڑتال جاری رہے گی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی