

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ڈاکٹر امبیڈکر کے یومِ پیدائش پر گلہائے عقیدت پیش کیا
بھوپال، 14 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ جدید ہندوستان کی تعمیر میں بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کا تعاون ناقابلِ فراموش اور بے مثال ہے۔ انہوں نے ملک میں مساوی معاشرے کی تعمیر کے لیے ہندوستانی آئین مرتب کر کے اس میں سب کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے منگل کو بورڈ آفس میں واقع بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکر چوراہے پر بھارت رتن بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کے 136 ویں یومِ پیدائش پر ان کے مجسمے پر گلہائے عقیدت نذر کئے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بابا صاحب کے احترام میں گلہائے عقیدت کے پروگرام میں موجود تمام لوگوں کے سامنے ہندوستانی آئین کی بنیادی تمہید کو پڑھا اور ’ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر امر رہیں‘ کے نعرے لگائے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بابا صاحب کی شخصیت اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکر تاحیات محروموں، مظلوموں، استحصال زدہ اور نظر انداز کیے گئے طبقات کی سماجی، معاشی، تعلیمی اور سیاسی بااختیاری کی توانا آواز تھے۔ ہماری حکومت آئین ساز بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکر کے ہم آہنگی اور مساوات کے جذبے کو مرکز میں رکھ کر مسلسل کام کر رہی ہے۔ بابا صاحب نے ہمیں مساوات کا حق دلایا اور اب ہم وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ’’سب کا ساتھ-سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس‘‘ کی راہ پر آگے بڑھتے ہوئے بابا صاحب کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کر رہے ہیں۔ ملک سب سے پہلے ہے، ہم سب سماجی ہم آہنگی کے لیے مل جل کر متحد ہو کر کوشش کریں گے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ہماری حکومتوں نے ہمیشہ ہی بابا صاحب کا احترام کیا۔ بھوپال میں اڑان پل (فلائی اوور) بنا، تو اسے ہم نے بابا صاحب کا نام دیا۔ بابا صاحب کی جائے پیدائش مہو میں پرشکوہ یادگار بنوائی۔ بابا صاحب کے نام پر ’کامدھینو یوجنا‘ شروع کی۔ ساگر کے سینکچری کو بابا صاحب کے نام سے موسوم کیا۔ بابا صاحب کے نام پر معاشی بہبود کی اسکیم شروع کی۔ ہم گوالیار میں بھی ڈاکٹر امبیڈکر دھام بنانے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ مرکزی حکومت نے بابا صاحب کی یادوں کو لافانی بنانے کے لیے ان کی جائے پیدائش (مہو- ڈاکٹر امبیڈکر نگر، ایم پی)، تعلیمی سرزمین (لندن)، دیکشا بھومی (ناگپور، مہاراشٹر)، مہا پرینروان بھومی (دہلی) اور چیتیا بھومی (ممبئی) کو ’پنچ تیرتھ‘ کے طور پر ترقی دے کر مستقل تعمیراتی کام کرائے ہیں، جو بابا صاحب کی جدوجہد اور اصولوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب نے خواتین کی تعلیم، ان کے فطری حقوق کے تحفظ اور ان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے خصوصی کوششیں کیں۔ انہی کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر ہمارا ملک آج خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک بڑا انقلابی قدم اٹھانے کی طرف آگے بڑھ رہا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت ملک کی پارلیمنٹ میں ’’ناری شکتی وندن ادھینیم‘‘ کے مکمل نفاذ کے حوالے سے تاریخی بحث کرانے جا رہی ہے۔ اس قانون کی منشا ملک کی تمام خواتین کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں 33 فیصد تحفظات فراہم کرنا ہے۔ یہ 21 ویں صدی میں ملک کی آدھی آبادی کو پورا حق دینے کی سمت میں اٹھایا گیا سب سے بڑا اور کارگر قدم ہوگا، جو ہندوستانی جمہوری ریاست کے قانون ساز نظام میں خواتین کی سیاسی قیادت کو بڑھائے گا۔
گلہائے عقیدت کے پروگرام میں وزیر برائے کھیل و نوجوان بہبود اور تعاون وشواس کیلاش سارنگ، ریاست وزیر برائے پسماندہ طبقات اور اقلیتی بہبود (آزادانہ چارج) کرشنا گور، ریاستی وزیر برائے جنگلات و ماحول دلیپ اہیروار، بھوپال کے رکنِ پارلیمنٹ آلوک شرما، رکنِ اسمبلی بھگوان داس سبنانی، میئر مالتی رائے، میونسپل کارپوریشن کے صدر کشن سوریہ ونشی، سینئر سماجی کارکن شیو پرکاش، راہول کوٹھاری، رویندر یتی سمیت دیگر عوامی نمائندے اور بڑی تعداد میں شہری موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن