
پٹنہ، 14 اپریل (ہ س)۔ بہارمیں سیاسی تبدیلیوں کے درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے گورنر کے سامنے نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا ہے۔ بی جے پی لیجسلیچر پارٹی اور این ڈی اے لیجسلیچر پارٹی کے لیڈروں کے منتخب ہونے کے بعد نائب وزیراعلی سمراٹ چودھری کو ریاست کا اگلا وزیراعلیٰ کے طور پر باضابطہ طورپرمقررکرنے کا عمل آگے بڑھ گیا ہے۔منگل کی شام سمراٹ چودھری نے این ڈی اے کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ راج بھون میں گورنرسید عطا حسنین سے ملاقات کی اور حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ گورنرنے دعویٰ قبول کرلیا ہے۔ بدھ کے روز 15 اپریل (صبح 11 بجے) کو حلف برداری کی تقریب منعقد کی جائے گی، جہاں سمراٹ چودھری وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔ ان کے ساتھ نئی کابینہ کے دیگر وزراء بھی حلف اٹھائیں گے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر معلومات کا اشتراک کرتے ہوئے سمراٹ چودھری نے کہا، این ڈی اے کی قیادت نے گورنر سے ملاقات کی ہے اور حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا ہے۔ عوام کے اعتماد کے ساتھ بہار ترقی، گڈ گورننس اور خوشحالی کے ایک نئے باب کی طرف بڑھے گا۔ قبل ازیں سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے منگل کے روز کابینہ کی آخری میٹنگ میں اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا اور وزراء کی کونسل کو تحلیل کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔ اس کے بعد وہ راج بھون گئے اور گورنر کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔نتیش کمار دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بہار کے وزیر اعلیٰ رہے۔ ان کے استعفیٰ کے بعد، سمراٹ چودھری کو بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر لیڈر منتخب کیا گیا، جسے بعد میں این ڈی اے لیجسلیچر پارٹی نے منظور کر لیا۔ سیاسی پیش رفت کے بعد بہار میں اقتدار کی تبدیلی کا راستہ صاف ہو گیا ہے، اور اب نئی این ڈی اے حکومت کی تشکیل کے لیے رسمی کارروائیاں مکمل ہو رہی ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan