
اورنگ آباد ، 14 اپریل (ہ س)۔ اورنگ آباد میں اردو زبان، ادب اور ثقافت کے فروغ کے لیے ایک مستقل ادارہ قائم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے قلعہ ارک علاقے میں ’’اردو گھر‘‘ کے قیام کی سماجی خدمتگار احمد جلیس کی جانب سے تجویز پیش کی گئی۔ اس سلسلے میں ضلع انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن سے زمین کی فراہمی اور فوری منظوری کی اپیل کی گئی ہے۔
احمد جلیس نے اس مطالبہ شہر کی تعلیمی اور لسانی ضرورت سے جوڑا ہے اور درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اورنگ آباد تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی اعتبار سے ایک اہم شہر ہے جہاں اردو زبان سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہاں اردو اخبارات کی اشاعت جاری ہے اور ادبی سرگرمیوں کی ایک مضبوط روایت قائم ہے، جبکہ کئی شعرا نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر شہر کی نمائندگی کی ہے۔ اس کے باوجود اردو زبان کے فروغ کے لیے کوئی مستقل ادارہ موجود نہیں ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ قلعہ ارک ایک مرکزی اور موزوں مقام ہے جہاں ’’اردو گھر‘‘ قائم کر کے اردو زبان و ادب سے متعلق سرگرمیوں کو منظم کیا جا سکتا ہے اور ایک مستقل پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکتا ہے۔
مجوزہ منصوبے میں جدید طرز کے مطالعہ خانہ، حوالہ جاتی لائبریری، طلبہ کے لیے اسٹڈی روم، ثقافتی پروگراموں کے لیے ہال اور اردو ادب و تاریخ کے نمائشی مرکز کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مشاعروں، ادبی نشستوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے مستقل سہولت فراہم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ادارے کے قیام سے اردو زبان کے تحفظ کے ساتھ نئی نسل کو تعلیمی اور ثقافتی رہنمائی فراہم کی جا سکے گی، جو مستقبل کے لیے ایک مثبت قدم ہوگا۔
آخر میں انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے جلد از جلد فیصلہ کیا جائے تاکہ اس منصوبے کو عملی شکل دی جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے