کسان اب صرف اناج دینے والا نہیں بلکہ توانائی، ایندھن اور ہائیڈروجن فراہم کرنے والا بھی بنے گا: گڈکری
بھوپال، 13 اپریل (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہ نتن گڈکری نے کہا ہے کہ کسان اب صرف اناج دینے والا (ان داتا) نہیں رہے گا، بلکہ وہ توانائی، ایندھن، ہوائی جہاز کا ایندھن، ڈامر اور ہائیڈروجن فراہم کرنے والا بھی بنے گا۔ زرعی باقیات، پ
رائسین میں ’انت کرشی‘ مہوتسو کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نتن گڈکری


ریاستی وزیر نریندر سنگھ تومر اور دیگر افسران


بھوپال، 13 اپریل (ہ س)۔

مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہ نتن گڈکری نے کہا ہے کہ کسان اب صرف اناج دینے والا (ان داتا) نہیں رہے گا، بلکہ وہ توانائی، ایندھن، ہوائی جہاز کا ایندھن، ڈامر اور ہائیڈروجن فراہم کرنے والا بھی بنے گا۔ زرعی باقیات، پرالی، بائیو ماس، ایتھنول، سی این جی اور ہائیڈروجن کے ذریعے کسانوں کے لیے آمدنی کے نئے راستے کھلیں گے، درآمدات کم ہوں گی اور دیہی معیشت کو نئی طاقت ملے گی۔

مرکزی وزیر گڈکری پیر کو مدھیہ پردیش کے ضلع رائسین کے صدر مقام پر واقع دسہرہ میدان میں منعقدہ تین روزہ قومی زرعی فیسٹیول ’’انت کرشی مہوتسو‘‘ کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کی جانب سے پیش کردہ علاقائی مطالبات پر اہم اعلانات کرتے ہوئے ترقی کے نئے تحفے دیے۔ انہوں نے رائسین رنگ روڈ/ مشرقی بائی پاس کی تجویز کو آگے بڑھانے، متعلقہ ڈی پی آر تیار کرنے، زمین کے حصول کے عمل کو ریاستی حکومت کے ذریعے تیز کرنے اور پلوں کی خوبصورتی سے متعلق مطالبات پر مثبت اتفاق کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سڑکوں سے متعلق دیگر تجاویز پر بھی جو ممکنہ تعاون ہوگا، وہ کیا جائے گا۔

مرکزی وزارت زراعت کی جانب سے رائسین میں منعقدہ اس انت کرشی میلے کا پیر کو ہزاروں کسانوں کی موجودگی میں شاندار اختتام ہوا۔ اختتامی سیشن میں مرکزی وزیر گڈکری نے جہاں سڑکوں کی ترقی، زرعی ٹیکنالوجی، تحفظِ آب، متبادل توانائی اور دیہی خوشحالی کا جامع وژن پیش کیا، وہیں مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے بیج سے بازار تک تیار کردہ روڈ میپ کو زمین پر اتارنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

گڈکری نے کہا کہ وہ اس پروگرام میں ایک وزیر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک کسان کی حیثیت سے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیتی کا مستقبل اب مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس)، ویدر اسٹیشن، سیٹلائٹ پر مبنی معلومات، ڈرون، نینو یوریا اور جدید زرعی ٹیکنالوجیز سے جڑ چکا ہے، اس لیے کسانوں کو وقت کے ساتھ بدلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ علم سب سے بڑی طاقت ہے اور علم کو اثاثے میں بدلنا آج زرعی شعبے کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے کسانوں سے اختراع (انوویشن)، تحقیق، کامیاب تجربات اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاشتکاری اپنانے کی اپیل کی تاکہ کم لاگت میں زیادہ پیداوار ممکن ہو سکے۔

مرکزی وزیر گڈکری نے تحفظِ آب پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ بہتے ہوئے پانی کو چلنے کے لیے، چلنے والے پانی کو رکنے کے لیے اور رکے ہوئے پانی کو زمین میں جذب کرنے کے لیے لگانا ہوگا۔ انہوں نے ’’گاوں کا پانی گاوں میں، کھیت کا پانی کھیت میں، گھر کا پانی گھر میں‘‘ کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جیسے پیسہ بینک میں جمع کیا جاتا ہے، ویسے ہی پانی کو زمین میں جمع (ڈپوزٹ) کرنا ہوگا۔ جہاں آبپاشی کا پانی براہِ راست نہیں پہنچ سکتا، وہاں تحفظِ آب کے ڈھانچے بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے ڈیری، ماہی پروری اور ’بلیو اکانومی‘ کو کسانوں کی آمدنی بڑھانے کا بڑا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دودھ کی پیداوار، مچھلیوں کی افزائش اور اس سے وابستہ سرگرمیوں پر سنجیدگی سے توجہ دینی ہوگی۔ صرف پیداوار بڑھانا کافی نہیں ہے بلکہ پروسیسنگ پلانٹ، کولڈ اسٹوریج، پری کولنگ سسٹم اور ویلیو ایڈیشن کا مضبوط نظام بھی بنانا ہوگا۔

مرکزی وزیر نے کسانوں سے گزارش کی کہ وہ میلے میں لگے اسٹالز، مشینری کی نمائش، پولی ہاوس، گرین ہاوس، ہائیڈروپونکس، ایک ایکڑ کھیتی کے ماڈل، بکری پالنے، مچھلی پالنے اور دیگر تکنیکی سیشنز کو دیکھ کر جائیں، سیکھ کر جائیں اور اسے کھیت میں نافذ کریں۔ یہی علم، یہی ٹیکنالوجی اور یہی تجربات کسانوں کا مستقبل بدلیں گے، گاؤں کو خوشحال بنائیں گے اور اسمارٹ سٹی کے ساتھ اسمارٹ ویلج کی سمت کو مضبوط کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو جدید بنانے کے لیے اس طرح کے پروگرام بے حد اہم ہیں اور یہ مہوتسو کسانوں کو مستقبل کی نئی ترغیب دینے والا ثابت ہوگا۔

پروگرام میں مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ’’انت کرشی مہوتسو‘‘ کوئی رسم نہیں ہے۔ یہ اختتام نہیں بلکہ نئی شروعات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام نے کسانوں کے لیے ایک پاٹھ شالہ (درسگاہ) کا کام کیا، جہاں مٹی کی مہک، مشین کی طاقت، جدت، ٹیکنالوجی اور ترقی کا حیرت انگیز سنگم دیکھنے کو ملا۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے کی مٹی، آب و ہوا، پانی کی دستیابی اور وسائل کی بنیاد پر بیج سے بازار تک کا تفصیلی روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ اس روڈ میپ میں یہ طے کیا گیا ہے کہ اس علاقے میں کون کون سی فصلیں، پھل اور سبزیاں اچھی ہو سکتی ہیں اور ان کی پیداوار، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کا مکمل منصوبہ کیسے بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ اچھے بیج کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر بلاک میں ’بیج گرام‘ بنائے جائیں گے، دالوں اور باغبانی کے شعبے کو وسعت دی جائے گی اور اس علاقے کو ہارٹیکلچر ہب کے طور پر ترقی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈرپ اور اسپرنکلر کے ذریعے پانی کے ایک ایک قطرے کا استعمال یقینی بنایا جائے گا نیز کسٹم ہائرنگ سینٹر اور پنچایتوں میں ’مشین بینک‘ بنائے جائیں گے تاکہ کسانوں کو جدید مشینیں آسانی سے مل سکیں۔ اچھی نرسری اور کلین پلانٹ سینٹر قائم کیے جائیں گے، ایف پی او کو مضبوط کیا جائے گا، بیک ہاؤس اور کولڈ ہاوس بنائے جائیں گے اور کسانوں کو پیداوار سے بازار تک بہتر ڈھانچہ فراہم کیا جائے گا۔

مرکزی وزیر زراعت نے واضح کیا کہ اس پورے روڈ میپ کی نگرانی کے لیے ٹاسک فورس بنائی جائے گی اور قومی سطح کی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ مرکز اور ریاستی حکومت کی ٹیمیں مل کر یہ یقینی بنائیں گی کہ جو عہد لیے گئے ہیں، وہ صرف اعلان بن کر نہ رہ جائیں بلکہ پوری طاقت کے ساتھ زمین پر اتریں۔ انہوں نے کسانوں سے ’فارمر آئی ڈی‘ بنوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں کھیتی سے جڑی کئی خدمات، اسکیمیں اور عمل اس سے آسان ہو جائیں گے۔ انہوں نے کسانوں کو بھروسہ دلایا کہ ان کی زندگی بدلنے، ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے اور کھیتی کو منافع بخش سودا بنانے میں حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ اختتامی سیشن میں کسانوں میں مراعات بھی تقسیم کی گئیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande