
نئی دہلی، 13 اپریل (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری بحران اور امریکہ و ایران کے درمیان امن مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے کا اثر خام تیل کی قیمتوں پر نظر آنے لگا ہے۔ پیر کو خام تیل کی قیمت 104 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جب امریکی صدر نے ہرمز تک جہازوں کی رسائی روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی بات کہی۔
بین الاقوامی بازار میں ابتدائی کاروبار کے دوران برینٹ کروڈ تقریباً 8 فیصد کی تیزی کے ساتھ 104 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا، جبکہ یو ایس بینچ مارک ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ میں 8.61 فیصد کی تیزی آئی ہے۔ فی الحال برینٹ کروڈ کی قیمت 7.07 ڈالر یعنی 7.43 فیصد کی تیزی کے ساتھ 102.3 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار کر رہی ہے۔ اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 8.32 ڈالر یعنی 8.62 فیصد کے اضافے کے ساتھ 104.2 ڈالر پر پہنچ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئل مارکیٹ سیز فائر سے پہلے والی صورتحال میں پہنچ چکی ہے۔ بس اتنا فرق ہے کہ اب امریکہ، ایران کی تیل برآمدات کو بند کرنے جا رہا ہے، ہرمز اسٹریٹ سے جہازوں کی آمد و رفت بند ہونے کی وجہ سے خلیجی ممالک اپنا تیل برآمد نہیں کر پا رہے ہیں۔ اسے دنیا کا سب سے بڑا تیل کا بحران مانا جا رہا ہے۔ ایران روزانہ دو ملین بیرل تیل برآمد کر رہا تھا۔ اگر ہرمز بند رہتا ہے تو اس سے دنیا میں خام تیل کی سپلائی مزید سخت ہو جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن