ایران- امریکہ جنگ: ہزاروں اضافی امریکی فوجی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ
واشنگٹن،یکم اپریل(ہ س)۔ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کی تصدیق کر رہی ہے تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ کی جانب اضافی امریکی فوجی بھی روانہ ہوچکے ہیں، جس کی وجہ سے لگتا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں کشیدگی م
ایران- امریکہ جنگ: ہزاروں اضافی امریکی فوجی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ


واشنگٹن،یکم اپریل(ہ س)۔ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کی تصدیق کر رہی ہے تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ کی جانب اضافی امریکی فوجی بھی روانہ ہوچکے ہیں، جس کی وجہ سے لگتا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

امریکی حکام نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج بش تین تباہ کن بحری جہازوں کے ہمراہ مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔ اس جنگی گروپ میں 6 ہزار سے زائد بحری اہل کار شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 82 ویں ایئربورن ڈویڑن کے ہزاروں فوجی بھی فضائی راستے سے خطے میں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔اگرچہ ان افواج کی اکثریت پہلے سے طے شدہ معمول کی تبدیلی کا حصہ ہے، تاہم ان میں 1500 پیرا ٹروپرز وہ ہیں جنہیں ٹرمپ انتظامیہ نے گذشتہ ہفتے ہنگامی بنیادوں پر بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ امریکی انتظامیہ نے ان کے مخصوص مشن کا اعلان تو نہیں کیا، لیکن یہ ڈویڑن دشمن کے علاقوں یا متنازع مقامات اور ہوائی اڈوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پیرا شوٹ کے ذریعے اترنے کی خصوصی تربیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ 2500 میرینز پر مشتمل امریکی بحریہ کا جہاز حال ہی میں خطے میں پہنچا ہے، جبکہ مزید 2500 اہل کار تعینات کیے جا رہے ہیں۔

خطے میں پہلے سے موجود ہزاروں فوجیوں کے ساتھ اس تازہ کمک کے باوجود، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور دیگر حکام ایران کے خلاف زمینی فوج کے استعمال سے متعلق سوالات کا جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ’آپ اپنے حریف کو یہ بتا کر جنگ نہیں جیت سکتے کہ آپ کیا کرنے کے لیے تیار ہیں اور کیا نہیں،‘ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اصل مقصد مذاکرات کے ذریعے تہران کے ساتھ معاہدہ کرنا ہے۔جنگ کی وجہ سے خطے میں موجود امریکی اثاثوں پر دباو¿ بڑھ گیا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ‘ حال ہی میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد مرمت کے لیے بحیرہ روم منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس جہاز کی تعیناتی طویل ترین مدت کا ریکارڈ قائم کر سکتی ہے اور مئی کے آخر تک اس کی واپسی متوقع ہے۔مبصرین کے مطابق اس فوجی اجتماع کو مذاکرات کے دوران ایرانی فریق پر دباو¿ ڈالنے کا حربہ سمجھا جا رہا ہے، جبکہ بعض اسے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مخصوص انداز کا حصہ قرار دے رہے ہیں جس میں وہ اپنے اگلے قدم کو اس حد تک مبہم رکھتے ہیں کہ دشمن کے لیے اس کی پیش گوئی کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande