
واشنگٹن،یکم اپریل(ہ س)۔ایران کے ساتھ جنگ دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔امریکہ ایران پر مسلسل فوجی اور سیاسی دباو¿ کے ذریعہجنگ کے اختتام کے قریب پہنچنے کی باتیں کررہا ہے۔ایک بار پھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کو ایران کے ساتھ جاری جنگ میںاختتامی مرحلہ نظر آ رہا ہے، جو اب اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا خاتمہ نہ آج ہوگا نہ کل، لیکن یہ ضرور ہوگا۔
روبیو نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی موقع پر ایرانی حکام کے ساتھ براہِ راست ملاقات کا امکان موجود ہے، واشنگٹن مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن یہ صورتحال برداشت نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے بعد شمالی اٹلانٹک معاہدے (نیٹو) کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لینا ہوگا اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی ایران کی مدد امریکی مشن میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے اعلیٰ درجے کے یورینیم کے ذخائر حوالے کرنے کی پیشکشیں مسترد کر دی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کے کوئی شہری استعمالات نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران جو کچھ بھی ہرمز کی تنگی میں کر رہا ہے، وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی مشن کے مقاصد ایران میں حاصل ہو رہے ہیں۔روبیو نے کہا کہ ایران اب گزشتہ 47 سال کے دوران کسی بھی وقت سے زیادہ کمزور ہےاور تہران سے اپیل کی کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش ترک کرے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan