عراق کے اربیل میں امریکی قونصل خانے کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام
بغداد،یکم اپریل(ہ س)۔امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ ایران پر حملے کے بعد سے ہی عراق میں ایران نواز عسکری گروپوں کے ذریعہ امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کے روز اربیل میں امریکی قونصل خانے اور ایک امریکی فوجی اڈے
عراق کے اربیل میں امریکی قونصل خانے کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام


بغداد،یکم اپریل(ہ س)۔امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ ایران پر حملے کے بعد سے ہی عراق میں ایران نواز عسکری گروپوں کے ذریعہ امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کے روز اربیل میں امریکی قونصل خانے اور ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے ڈرون حملے کو ناکام بنا دیا گیا، اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔العربیہ کے نمائندے کے مطابق ایک ڈرون کو کامیابی سے روکا گیا ،جو امریکی قونصل خانے پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حملے کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں سات دھماکے ہوئے۔

ذرائع نے بتایا کہ حملہ ڈرون طیاروں کے ذریعے کیا گیا، جس کا ہدف امریکی قونصل خانے کے علاوہ ایک فوجی اڈہ تھا ،جس میں امریکی فوجی تعینات ہیں، تاہم دفاعی نظام نے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔ذرائع نے مزید تصدیق کی کہ دھماکوں کے دوران کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، اب تک اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ایک عراقی سکیورٹی ذریعے نے پہلے بتایا تھا کہ اربیل، کردستان عراق کے دارالحکومت کے آسمان میں دو ڈرون حملوں کو بین الاقوامی اتحاد کی فضائی دفاعی فورسز نے ناکام بنایا۔ دو طیاروں کے ملبے کھلے علاقے میں گر گئے، جس سے مالی نقصان ہوا لیکن کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، جیسا کہ العربیہ/الحدث کے نمائندے نے رپورٹ کیا۔28 فروری کو ایران اور اسرائیل و امریکا کے درمیان جنگ کے شروع ہونے کے بعد، جنگ عراق تک پھیل گئی، حالانکہ بغداد اور اربیل کی حکومتیں کسی بھی شکل میں اس سے بچنا چاہتی تھیں۔اربیل کے آسمان میں متعدد ڈرونز کو فضائی دفاع نے بار بار ناکام بنایا، جہاں ایک بڑی امریکی قونصل خانے کی عمارت بھی موجود ہے۔

عراق میں غیر ملکی کمپنیوں کے زیرِ انتظام تیل کے میدانوں پر بھی حملے ہوئے، جن میں امریکی کمپنیاں شامل ہیں، جس کے باعث زیادہ تر کمپنیوں نے احتیاطی طور پر اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔

بغداد میں امریکی سفارتخانے پر بھی متعدد ڈرون اور میزائل حملے ہوئے، جنہیں فضائی دفاع نے ناکام بنایا۔ایرانی حامی عراقی مسلح گروہ روزانہ کی بنیاد پر عراق اور خطے میں ''امریکی اڈوں'' پر حملوں کا اعلان کرتے ہیں۔اسی دوران الحشد الشعبی کے دفاتر اور ایران نواز عراقی مسلح گروہوں کے مقامات بھی امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے نشانے پر ہیں۔الحشد الشعبی ایک اتحاد ہے، جو 2014 میں داعش کے خلاف تشکیل دیا گیا تھا، بعد میں یہ عراقی فوج کا حصہ بن گیا، لیکن اس میں ایران نواز فریقوں کے لشکر بھی شامل ہیں، جو آزادانہ طور پر حرکت کرتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande