اراکین اسمبلی نے افسران کی گیلری میں سینئر افسران کی عدم موجودگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا
اراکین اسمبلی نے افسران کی گیلری میں سینئر افسران کی عدم موجودگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا جموں، یکم اپریل (ہ س)۔ جموں و کشمیر اسمبلی میں بدھ کے روز ایک غیر معمولی اتفاقِ رائے دیکھنے کو ملا جب مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے افسران کی گیلری می
Jk assembly


اراکین اسمبلی نے افسران کی گیلری میں سینئر افسران کی عدم موجودگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا

جموں، یکم اپریل (ہ س)۔

جموں و کشمیر اسمبلی میں بدھ کے روز ایک غیر معمولی اتفاقِ رائے دیکھنے کو ملا جب مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے افسران کی گیلری میں سینئر افسران کی عدم موجودگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس معاملے پر اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی توجہ مبذول کرائی۔یہ مسئلہ نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی نذیر احمد گریزئی نے سوالیہ گھنٹے کے اختتام پر اٹھایا، جس پر حکومتی اور اپوزیشن دونوں بینچوں کے اراکین نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکراحتجاج کیا اور ان کی تائید کی۔ اسپیکر نے احتجاج کرنے والے اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ ایوان نے ان کے تحفظات کا نوٹس لیا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ متعلقہ محکموں کے افسران کی موجودگی اس وقت لازمی ہے جب ان کے شعبوں سے متعلق سوالات زیرِ بحث آئیں۔ انہوں نے کہا کہ جگہ کی کمی کے باعث پورا سکریٹریٹ موجود نہیں ہو سکتا، تاہم وزیر اعلیٰ کو یقینی بنانا ہوگا کہ متعلقہ افسران ایوان میں موجود رہیں، نوٹس لیں اور اراکین کے سوالات کا تسلی بخش جواب دیں۔

نذیر احمد گریزئی نے کہا کہ وہ گزشتہ 22 برسوں سے ایوان کے رکن ہیں لیکن انہوں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ ایوان کو اس طرح نظر انداز کیا جائے۔ انہوں نے افسران کی گیلری میں خالی نشستوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے چیف سکریٹری اور کمشنر سیکریٹریز کارروائی میں شریک ہوتے تھے، مگر اب افسران شرکت سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ غیر حاضر افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایوان سب سے بالا ہے اور تمام افسران، چاہے وہ کسی بھی عہدے پر ہوں، کو جوابدہ ہونا چاہیے اور ایوان میں حاضر ہونا چاہیے۔

بی جے پی کے رکن اسمبلی شام لال شرما نے بھی افسران کی غیر موجودگی کو غلط روایت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ اس معاملے کا ضرور نوٹس لیں گے۔ انہوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ چیف سکریٹری کو باقاعدہ نوٹس جاری کر کے وضاحت طلب کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جس محکمے کا معاملہ ایجنڈے میں شامل ہو، اس کا انتظامی سکریٹری ایوان میں موجود ہونا چاہیے، بصورت دیگر کارروائی ملتوی یا ختم کر دی جانی چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande