
بھوپال، یکم اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے۔ کسان بہبود سال 2026 میں ’سمردھ کسان-سمردھ پردیش‘ (خوشحال کسان- خوشحال ریاست) کے تصور کو بامعنی بناتے ہوئے کسانوں کے مفاد میں متعدد فیصلے لیے جا رہے ہیں۔ اب زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے کمبائن ہارویسٹروں کو مدھیہ پردیش روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ٹول پلازوں پر فیس کی وصولی سے چھوٹ رہے گی۔
یہ بات وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بدھ کو مدھیہ پردیش روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں کہی۔ بھوپال میں واقع سمتو بھون (وزیراعلیٰ ہاوس) میں منعقدہ اجلاس میں وزیرِ تعمیراتِ عامہ راکیش سنگھ اور چیف سکریٹری انوراگ جین موجود تھے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ فصل کی کٹائی میں استعمال ہونے والا کمبائن ہارویسٹر ایک ضروری زرعی آلہ ہے۔ ٹول راستوں پر ٹول کی چھوٹ دیے جانے سے ہارویسٹر کی نقل و حمل کی لاگت میں کمی آئے گی، جس کا مثبت اثر زرعی پیداوار کی قیمت پر پڑے گا، یہ فیصلہ کسانوں کے لیے سودمند ثابت ہوگا۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کی صدارت میں ہونے والے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں اندور-اجین گرین فیلڈ روڈ اور اجین-جاورا گرین فیلڈ روڈ کی ’نان ایکسیس کنٹرول پروجیکٹ‘ کے طور پر تعمیر کی منظوری دی گئی۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مغربی بھوپال بائی پاس کے تبدیل شدہ الائنمنٹ کی منظوری دیتے ہوئے تعمیر کی اصولی منظوری بھی دے دی۔ اجلاس میں سالانہ حسابات اور دیگر انتظامی امور پر غور و خوض کیا گیا اور فیصلے لیے گئے۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سکریٹری سنجے دوبے، منیش رستوگی، پرنسپل سکریٹری تعمیراتِ عامہ سکھبیر سنگھ، پرنسپل سکریٹری جنگلات سندیپ یادو اور مینیجنگ ڈائریکٹر مدھیہ پردیش روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن بھرت یادو موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن