اسکول چلیں ہم مہم بچوں کو تعلیمی نظام سے جوڑنے کی ایک اختراعی کوشش: وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو
وزیراعلیٰ نے ریاستی سطح کے پرویش اتسو پروگرام-2026 کا آغاز کیا موجودہ تعلیمی سیشن میں 1 کروڑ 45 لاکھ طلباء کے داخلے کا ہدف بھوپال، یکم اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی کے لیے ریاستی حکومت وزیراعظم نر
وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو ریاستی سطح کے پرویش اتسو پروگرام-2026 سے خطاب کرتے ہوئے۔


وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے پرویش اتسو پروگرام کے موقع پر اسکولی طلباء میں مفت کتابیں تقسیم کیں


وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے پرویش اتسو پروگرام کے موقع پر اسکولی طلباء میں مفت سائیکلیں تقسیم کیں


وزیراعلیٰ نے ریاستی سطح کے پرویش اتسو پروگرام-2026 کا آغاز کیا

موجودہ تعلیمی سیشن میں 1 کروڑ 45 لاکھ طلباء کے داخلے کا ہدف

بھوپال، یکم اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی کے لیے ریاستی حکومت وزیراعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہے۔ ریاست میں یکم سے 4 اپریل تک ”اسکول چلیں ہم“ مہم چلے گی اور بچوں کو اسکولوں میں داخلہ دیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو بدھ کو بھوپال میں واقع ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول میں ریاستی سطح کے پرویش اتسو پروگرام-2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اس موقع پر بچوں میں مفت سائیکلیں اور درسی کتابیں تقسیم کیں اور انہیں روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے سرکاری اسکولوں میں ڈراپ آوٹ کی تعداد صفر کرنے پر محکمہ اسکولی تعلیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں کلاس 1، 6 اور 9 میں داخلے کے عمل کو آسان بنایا گیا ہے، جس سے سال 26-2025 میں کل داخلوں میں 19.6 فیصد کا قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے۔ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں بھی 32.4 فیصد کی ترقی درج کی گئی ہے۔ یہ سرکاری اسکولوں پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔ ریاستی حکومت نے موجودہ سیشن میں اسکولوں میں 1 کروڑ 45 لاکھ داخلے کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاست میں 369 شاندار ساندیپنی اسکولوں کا آغاز کیا گیا ہے، جو ملک کے بہترین اسکول ہیں۔ مدھیہ پردیش کے ساندیپنی اسکولوں میں طلباء کی ہمہ جہت ترقی کے لیے تمام سہولیات دستیاب ہیں۔ پی ایم شری اسکول بھی جدید تعلیمی نظام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کی آمد پر طلباء نے سائیکل کی گھنٹیاں بجا کر اور اسکاوٹ گائیڈ دستے نے موسیقی کے آلات پر خوشگوار دھنوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے تقریب میں شریک طلباء پر پھولوں کی بارش کر کے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اٹل ٹنکلنگ لیب، روبوٹک لیب، پیشہ ورانہ تعلیم اور آئی سی ٹی لیب کے اسٹالز کا مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر ”اسکول چلیں ہم“ مہم پر مبنی ایک مختصر فلم بھی دکھائی گئی۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کے ساتھ مفت سائیکل حاصل کرنے والے اسکولی بچوں کی گروپ فوٹو بھی لی گئی۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ”اسکول چلیں ہم“ مہم بچوں کو تعلیم سے جوڑنے کی ایک اختراعی کوشش ہے۔ ریاست کے تمام 55 اضلاع کے ہر گاوں کا ایک ایک بچہ اسکول میں داخلہ لے رہا ہے۔ محکمہ اسکولی تعلیم نے یہ یقینی بنایا ہے کہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ ریاست میں بڑے پیمانے پر سرکاری اسکولوں کے تئیں والدین اور بچوں کی دلچسپی بڑھی ہے۔ ان میں ڈراپ آوٹ ختم کرنے کے لیے اساتذہ کے ساتھ معاشرے کے ہر طبقے نے عزم کے ساتھ محنت کی ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ بچوں کو اسکول آنے جانے کے لیے مفت سائیکلیں تقسیم کی گئی ہیں۔ آئندہ 3 سے 4 ماہ تک سرکاری اسکولوں کے 4 لاکھ بچوں کو سائیکلیں ملیں گی۔ طلباء کے لیے مفت یونیفارم، کتابیں اور کھانے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ہمارے بچے ڈاکٹر، انجینئر اور کاروباری بنیں، ان کے روشن مستقبل کے لیے اسکولی تعلیمی نظام کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے 76 ہزار 325 اساتذہ کا بروقت تقرر کیا گیا۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ تعلیمی پالیسی-2020 کے تحت 49 کتابیں ہندی اور مقامی زبان میں تیار کر کے قبائلی علاقوں میں طلباء کو تقسیم کی جا رہی ہیں۔ ریاست میں درج فہرست ذات کے طلباء کے لیے 95 ہزار گنجائش والے 1913 ہاسٹلز چلائے جا رہے ہیں۔ محکمہ قبائلی امور کے 25 ہزار 439 اسکولوں میں آج 20 لاکھ سے زائد طلباء زیرِ تعلیم ہیں۔ ریاستی حکومت ہر طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہے۔ سال 26-2025 کے بورڈ امتحانات میں 75 فیصد یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے 94 ہزار 306 ہونہار طلباء کو مفت لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے۔ فائنانشل سال 27-2026 کے لیے بجٹ میں لیپ ٹاپ کے لیے 250 کروڑ روپے، اسکوٹی کے لیے 100 کروڑ روپے اور سائیکل کی تقسیم کے لیے 210 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ بورڈ امتحان کے اسکول ٹاپر طلباء کو اسکوٹی کا تحفہ دیا جا رہا ہے۔

اسکولی تعلیم اور وزیرِ ٹرانسپورٹ ادے پرتاپ سنگھ نے کہا کہ آج کا دن محکمہ اسکولی تعلیم کے لیے دیوالی جیسا ہے۔ ہم تمام اسکولی بچوں کا اسکولوں میں استقبال کر رہے ہیں۔ ریاست کے اسکولوں میں بچوں کے داخلے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اب تک 1 کروڑ بچوں کا داخلہ کیا جا چکا ہے۔ پہلی کلاس سے لے کر ہائی اسکول اور ہائر سیکنڈری کلاس تک بچوں کا داخلہ کیا جا رہا ہے۔ اسکولی طلباء کو مفت سائیکلیں اور کتابیں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بلاک کی سطح پر بک فیئر (کتابوں کے میلے) لگائے جائیں، جہاں سرکاری کے ساتھ نجی اسکولوں کے بچوں کو بھی درسی کتب کارپوریشن کی سستی کتابوں کا فائدہ مل سکے۔ ریاستی حکومت تمام طلباء کے روشن مستقبل کے لیے پرعزم ہو کر کام کر رہی ہے۔ وزیرِ قبائلی امور ڈاکٹر کنور وجے شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کی قیادت میں ریاست کا تعلیمی نظام مضبوط ہوا ہے۔ طلباء کے پاس اپنا مستقبل محفوظ کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا سنہرا موقع ہے۔

پروگرام میں وزیرِ کھیل اور کوآپریٹو وشواس کیلاش سارنگ، پسماندہ طبقہ کی بہبود کی ریاستی وزیر کرشنا گور، ایم ایل اے بھگوان داس سبنانی، میئر مالتی رائے، میونسپل کارپوریشن کے صدر کشن سوریہ ونشی، رویندر یتی، سکریٹری اسکولی تعلیم سنجے گوئل، کمشنر شلپا گپتا سمیت دیگر محکمانہ افسران اور بڑی تعداد میں اسکولی طلباء، والدین اور اساتذہ موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande