جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سروجنی نائیڈو سینٹر فار وومینس اسٹڈیز کے زیر اہتمام ورکشاپ کا انعقاد
نئی دہلی،یکم اپریل(ہ س)۔سروجنی نائیڈو سینٹر فار وومینس اسٹڈیز(ایس ایس سی ڈبلیو ایس) جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مورخہ تیس مارچ دوہزار چھبیس کو یونیورسٹی۔صنعت رابطہ کے سلسلے میں ایک ورکشاپ بعنوان ’میک اٹ میٹر: کمیونی کیشن ان دی ڈولپمنٹ سیکٹر‘ منعقد کیا۔مذ
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سروجنی نائیڈو سینٹر فار وومینس اسٹڈیز کے زیر اہتمام ورکشاپ کا انعقاد


نئی دہلی،یکم اپریل(ہ س)۔سروجنی نائیڈو سینٹر فار وومینس اسٹڈیز(ایس ایس سی ڈبلیو ایس) جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مورخہ تیس مارچ دوہزار چھبیس کو یونیورسٹی۔صنعت رابطہ کے سلسلے میں ایک ورکشاپ بعنوان ’میک اٹ میٹر: کمیونی کیشن ان دی ڈولپمنٹ سیکٹر‘ منعقد کیا۔مذکورہ اجلاس ایس ان سی ڈبلیو ایس کے ملٹی پرپز ہال میں منعقد ہوا جس میں طلبہ اور فیکلٹی اراکین ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور علمی تحقیق، زمینی حقائق اور اسٹریٹیجک کمیونی کیشن کے درمیان حد فاصل کے مختلف پہلوو¿ں پر غور و خوض کیا گیا۔اسٹریٹا کوم کمیو نی کیشن کی بانی ڈائریکٹر روشنی سبھاش جنہیں ڈولپمنٹ کمیو نی کیشن کا خاص تجربہ ہے انہوں نے ورکشاپ کا انعقاد کیا اور شرکاسے بات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ کس طرح ترسیلی و ابلاغی قوت سماجی اثر کو جہت دیتی ہے۔ڈاکٹر ترنم صدیقی نے اجلاس کی رابطہ کاری کا اہم فریضہ انجام دیا اور ڈاکٹر ثریا تبسم نے تمہیدی گفتگو کی۔پروفیسر مہر فاطمہ حسین نے اجلاس کی صدارت کی۔

اپنی گفتگو کی ابتدا میں سبھاش نے شرکا سے کہاکہ وہ روزمرہ کی زندگی میں خاص طورپر سوشل میڈیا کے حوالے سے ترسیل و ابلاغ کے مزاج و کردار کو سمجھیں۔انہوں نے کہاکہ مختصر فارم والے مواد پر مبنی ریل،ہوکس اور اسکرین پر تیز ی سے آتے جاتے ویڑوئل توجہ کو متاثر کرتے ہیں اور اس بات سے آگاہ کیاکہ زندگی کی یہ تبدیلی علمی تحریر اور ترقی کے عمل دونوں ہی پر یکساں انداز میں زبردست اثرات مرتب کررہی ہے۔انہوں نے طلبہ سے ڈیجیٹل عادات کے سلسلے میں محتاط رہنے کی اپیل کی کیوں کہ یہ ان کی تحقیق کو جہت دینے کے ساتھ ساتھ ان طور طریقوں کو بھی متاثر کرتی ہیں جن میں ترقی کے پیغامات عوام تک پہنچتے ہیں۔

اجلاس میں نظری بحث کے ساتھ ساتھ عملی پہلو پر بھی بات چیت ہوئی اور صوبہ مدھیہ پردیش میں واقع ایک ضلع کا کیس اسٹڈی پیش کیا گیا جہاں خواتین کو صنف اساس تشدد کا سامنا تھا، انہوں نے حکومت کی جانب سے ناکافی امداد کے باوجود اجتماعی مزاحمت کا ثبوت پیش کیااور سینٹرز کی مدد کی۔ شرکا کو تین گروپ میں تقسیم کردیا گیا اور انہیں کمیونی کیشن حکمت کی تیاری اور اس تناظر میں سرگرم عمل سیلف ہیلپ گروپ کے لیے امداد کی تجویز تیار کرنے کے لیے بیس منٹ دیے گئے۔اس مشق میں حقیقی دنیا کے تقاضوں کو ایسے حقائق میں تبدیل کرنے کا سامان کیا گیا جو عطیہ دہندگان اور پالیسی سازوں کے لیے انتہائی اہم، جواب دہ بیانیے ترتیب دینے میں معاون ہوں۔

طلبہ کے مختلف گروپوں نے اپنی تجاویز پیش کیں جن کے بعد پرجوش تبصروں اور رد عمل اور تاثرکا تبادلہ ہوا۔مذاکراتی فارمیٹ کی وجہ سے طلبہ کو مشکل سوالات جیسے کہ کمیونی ٹی کی کہانی کی کون سی جہات کو پیش منظر میں رکھاجاناہے؟کیا رازدارانہ رکھنا ہے؟اور نمائندگی کی اخلاقیات کے ساتھ وکالت و تائید میں کوئی کس طرح توازن برقرار رکھ سکتاہے؟سے نبر د آزما ہونے کا موقع فراہم ہوا۔سبھاش نے اس بات پر زور دیا کہ ڈولپمنٹ سیکٹر میں اخلاقی کمیو نی کیشن صرف وضاحت و صراحت کے لیے درکا ر نہیں بلکہ قائل کرنے اور جن برادریوں کی نمائندگی کی جارہی ہے ان کی عزت و آبرو کے تئیں مکمل عہد کے لیے بھی ضروری ہے۔رضاکار طالبہ انکا کے شکریے پر پروگرام کا اختتام ہوا۔طلبہ رضاکاروں میں میناکشی،دیویہ، ویبھو اور آدیتی نے ورکشاپ کے بہتر انداز میں انعقاد میں اپنی اہم خدمات انجام دیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande