
کولکاتا، یکم اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ایک بار پھر اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ بدھ کی صبح کولکاتا میں کئی مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے گئے۔ ان میں جنوبی کولکاتا کے قصبہ علاقے میں تاجر وشواجیت پودار عرف سونا پپو کی رہائش بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بالی گنج میں ایک کمپنی کے دفتر سمیت کئی مقامات پر تلاشی لی گئی۔
ای ڈی ذرائع کے مطابق، سونا پپو کے خلاف پہلے ہی کئی ایف آئی آر درج ہیں۔ ا ن پر جبریل وصولی، دھمکی دینے اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے الزامات ہیں ۔ ان میں سے چار یا پانچ کیسز کی تحقیقات گزشتہ کچھ دنوں سے جاری تھیں، جس کے نتیجے میں بدھ کو یہ کارروائی کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق، ای ڈی کے اہلکار صبح 7 بجے کے قریب ان کے فرن روڈ والے گھر پہنچے۔ اس دوران مرکزی فورس کے اہلکار بھی موجود تھے۔
ای ڈی کے مطابق، سونا پپو پر الزام ہے کہ قصبہ اور بالی گنج علاقوں میں کئی سنڈیکیٹ پرسونا پپو کا کنٹرول ہے۔ تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ وہ مبینہ طور پر مختلف کنسٹرکشن کمپنیوں سے کروڑوں روپے وصولی کرتے تھے اور یہ رقم بااثر افراد کو بھجوائی جاتی تھی۔ یہ چھاپے ان الزامات کی تحقیقات کے سلسلے میں مارے گئے۔
سونا پپو کی رہائش گاہ کے علاوہ ای ڈی جنوبی کولکاتا میں کئی دیگر مقامات پر بھی چھاپے مار رہی ہے۔ مالی بے ضابطگیوں کے معاملے کے سلسلے میں بالی گنج میں ’سن انٹرپرائز‘ نامی کمپنی کے دفتر کی بھی تلاشی لی جارہی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس کمپنی کا سونا پپو سے براہ راست تعلق ہے یا نہیں۔
مقامی سطح پر یہ بھی چرچا ہے کہ سونا پپو کو جنوبی کولکاتا سے ترنمول کانگریس کے رہنما اور راس بہاری اسمبلی سیٹ کے امیدوار دیباشیش کمار کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ اتفاق سے ای ڈی نے دیباشیش کمار کو بھی پیر کو پوچھ گچھ کے لیےطلب کیا تھا اوراس کے دو دن بعد یہ چھاپے ماری ہوئی ہے ۔
کچھ عرصہ قبل رویندر سروور علاقے میں دو گروپوں کے درمیان تصادم میں سونا پپو کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ تاہم پولیس نے انہیں ابھی تک گرفتار نہیں کیا ہے۔ گول پارک کے علاقے میں ہونے والے اس واقعے کے بعد مقامی باشندوں نے ان کے ساتھیوں پر علاقے میں بدامنی کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔ تاہم سونا پپو نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا اس تصادم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد