
حیدرآباد ، یکم اپریل (ہ س)۔
تلنگانہ جاگروتی کی صدرکے کویتا نے آج کانگریس حکومت پرسخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے بے روزگار نوجوانوں کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کیا اوراپنے اہم وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ۔ تلنگانہ جاگروتی کے دفتر، بنجارہ ہلزمیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے دو لاکھ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس کی تکمیل نہیں کی گئی۔ ان کا الزام تھا کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور سینئررہنما اُتم کمارریڈی پرعوامی اعتماد کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے پارٹی نے اشوک نگرمیں راہل گاندھی سے یہ وعدہ کروایا۔ کویتا نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں 30 سے 40 لاکھ خاندانوں کے نوجوان مسابقتی امتحانات کی تیاری کررہے ہیں لیکن بھرتی کے عمل میں رکاوٹیں جاری ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کئی سرکاری احکامات (جی اوز)مختلف شعبوں میں نوکریوں کے نوٹیفکیشن جاری کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں،جن میں ڈگری لیکچررز،ڈی ایس سی، گروپ سروسز،پولیس بھرتی اورگروکل ادارے شامل ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر جی اونمبر4 کوتنقید کا نشانہ بنایا،یہ کہتے ہوئے کہ یہ ڈگری کالج لیکچررز کی بھرتی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، حالانکہ پچھلے نوٹیفکیشن کو 15 سال گزرچکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ریاستی اہلیت ٹیسٹ(سیٹ) پچھلے تین سال سے منعقد نہیں ہوا،جس سے امیدواروں کے اہل ہونے کا خطرہ ہے۔ بھرتی کے طریقہ کارپرتشویش ظاہرکرتے ہوئے انہوں نے انٹرویو کے لئے مارکس کی تقسیم اورپی ایچ ڈی ویٹیج پرسوال اٹھایا اورشفافیت کی کمی کا الزام لگایا۔ مزید کہا کہ بھرتی کے عمل میں منتخب امیدواروں کو فائدہ پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق