
بھوپال، یکم اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں اشوکا گارڈن تھانہ علاقے میں ریسٹورنٹ کاروباری کے قتل کے ملزم آصف عرف بم کو شارٹ انکاونٹر کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بدھ کے روز ہندو تنظیموں کے احتجاج کے درمیان یہ کارروائی کی گئی۔
قابلِ ذکر ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی رات اشوکا گارڈن علاقے میں معمولی تنازعہ کے بعد ملزمان نے 35 سالہ چائے کاروباری کا چاقو گھونپ کر قتل کر دیا تھا۔ پولیس کے مطابق، متوفی وجے میواڑا سبھاش کالونی کا رہنے والا تھا۔ وہ اشوکا گارڈن اور کولار علاقے میں چائے کے دو ہوٹل چلاتا تھا۔ اتوار کی دیر رات تقریباً 1.30 بجے وہ ہوٹل بند کر کے ملازمین کو چھوڑنے پرگتی نگر گیا تھا۔ اسی دوران مرکزی ملزم آصف عرف بم نے اپنے ساتھیوں فرمان، کالو اور عمران کے ساتھ اس پر حملہ کر دیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ ملزمان نے ملازمین کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا، لیکن انہوں نے صبح جلدی کام ہونے کا حوالہ دے کر منع کر دیا۔ اس پر ملزمان نے ان کے ساتھ بدتمیزی شروع کر دی۔ وجے نے اس کی مخالفت کی۔ اس نے آصف کو ’بیٹا‘ کہہ کر سمجھانے کی کوشش کی۔ اسی بات پر تنازعہ بڑھ گیا۔ پولیس کے مطابق، غصے میں آئے آصف نے چاقو نکال کر وجے کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ اس کے ساتھیوں نے بھی مار پیٹ کی۔ واردات کے بعد تمام ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ زخمی وجے کو ملازمین اور مقامی لوگ فوراً نجی اسپتال لے کر پہنچے، لیکن ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
قتل کے بعد ملزم آصف عرف بم فرار چل رہا تھا۔ مخبر کی اطلاع پر پولیس کو اس کے کیروا کے جنگلوں میں چھپے ہونے کی معلومات ملی۔ بدھ کی دوپہر تقریباً 12.00 بجے جب پولیس کی مشترکہ ٹیم گھیرا بندی کرنے پہنچی، تو خود کو گھرا دیکھ کر ملزم نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا اور بھاگنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اس کے پیر پر گولی مار کر اسے پکڑ لیا۔
اشوکا گارڈن تھانہ انچارج انوراگ لال نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دفاعِ خود اور ملزم کو روکنے کے لیے پولیس نے شارٹ انکاونٹر میں اس کے پیر پر گولی چلائی۔ ملزم کو فوری علاج کے لیے اسپتال بھجوایا گیا ہے، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ادھر، وجے میواڑا کے قتل کے معاملے میں بدھ کو ان کے لواحقین اور ہندو تنظیم کے کارکن ملزمان کے انکاونٹر اور مکان گرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے ملنے جا رہے تھے۔ سکل ہندو سماج کی اپیل پر ہندو اتسو سمیتی، بجرنگ دل سمیت مختلف تنظیموں کے لوگوں نے روشن پورہ چوراہے پر احتجاج کیا۔ اس دوران مظاہرین نے بیریکیڈنگ توڑ دی اور وزیراعلیٰ ہاوس کی جانب کوچ کرنے لگے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاوس سے محض 100 میٹر دور پولی ٹیکنک چوراہے تک پہنچ گئے۔ بڑی تعداد میں جمع ہو گئے مظاہرین میں سے پولیس نے صرف پانچ لوگوں کو سی ایم سے ملنے کے لیے بھیجا۔ اس دوران وہاں ہنگامہ کر رہے لوگوں کو لاٹھیاں چلا کر پولیس نے کھدیڑ دیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن