
بنگلہ دیش میں آئینی اصلاحات پر حکومت اور اپوزیشن میں اعتماد کا بحران
ڈھاکہ، یکم اپریل (ہ س)۔ بنگلہ دیش میں آئینی اصلاحات پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ اس مسئلے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ قومی پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف رہنما اور بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمن نے کہا ہے کہ آئینی اصلاحات پر پارلیمانی بحث کے دوران وزیرِ قانون نے ان کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا۔ انہوں نے یہ بات منگل کی دیر رات ایک بریفنگ کے دوران کہی۔ یہ بریفنگ ’جولائی قومی چارٹر نفاذ آرڈر‘ کے تحت ’آئین اصلاح کونسل‘ بلانے کی تجویز پر ہونے والی بحث کے بعد ہوئی تھی۔
’دی ڈیلی اسٹار‘ کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا، ”بات چیت کے دوران حکمراں جماعت نے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی۔ ہم نے کہا کہ ہم یہاں بحران کو حل کرنے آئے ہیں، نہ کہ کوئی نیا بحران پیدا کرنے۔ اس لیے، ہم حل چاہتے ہیں۔ لیکن اب یہ معاملہ کچھ حد تک پیچیدہ ہو گیا ہے۔ اس تجویز کے سلسلے میں، ہم نے کہا کہ یہ نوٹس اصلاح کونسل کو بلانے اور اس کے اجلاس سے متعلق ہے۔ اگر اس معاملے کو لے کر اصلاحات سے منسلک کوئی کمیٹی بنائی جاتی ہے، تو ہم اسے مثبت طور پر قبول کرنے کے لیے تیار ہیں“۔
حزبِ اختلاف رہنما نے مزید کہا، ”تاہم، شرط یہ ہے کہ کمیٹی میں دونوں فریقوں کی یکساں نمائندگی ہونی چاہیے۔ اگر ارکان کا تقرر برابری کے بجائے تناسب کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، تو کسی مثبت نتیجے کا امکان بہت کم ہے“۔ شفیق الرحمن نے کہا، ”جب ہم نے تجویز پر لچکدار طریقے سے غور کیا، تو وزیرِ قانون نے ایک تقریر کی اور میرے بیان کو غلط رنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آئینی ترمیم کی ان کی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔ اصل میں، ہم نے آئینی ترمیم کی کسی بھی تجویز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔ ہم نے صاف طور پر کہا تھا کہ یہ معاملہ آئینی اصلاحات سے منسلک ہے۔ اس لیے، مجھے امید ہے کہ کوئی غلط فہمی نہیں ہوگی۔ میرا بیان واضح تھا، اس میں کوئی ابہام نہیں تھا“۔
انہوں نے کہا، ”بعد میں، جب ہم اس معاملے پر وضاحت دینا چاہتے تھے، تب تک پارلیمانی سیشن ختم ہو چکا تھا۔ اسپیکر نے اعلان کر دیا کہ آج کی بحث ختم ہو گئی ہے۔ جب میں نے کہا کہ ہمیں ایک بیان دینا ہے اور بولنے کا موقع مانگا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں کل موقع دیا جائے گا۔ اس طرح، یہ معاملہ فی الحال ٹل گیا ہے۔ اگر ہمیں کل پھر سے بولنے کا موقع ملتا ہے، تو ہم آپ کو مطلع کریں گے“۔
شفیق الرحمن نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ کی تشکیل ایک خاص تناظر میں ہوئی تھی۔ ”1952 کی تحریکِ زبان، 1971 کی جنگِ آزادی، 1990 کی عوامی تحریک اور 2004 کی عوامی بغاوت کے ذریعے لوگوں کے حقوق اور امنگوں کی تکمیل نہیں ہو پائی تھی۔ اس تناظر میں، آئینی اصلاحات ضروری ہو گئی ہیں“۔ انہوں نے بتایا کہ چھ عبوری حکومتی اصلاحاتی کمیشنوں اور بعد میں قومی اتفاقِ رائے کمیشن کے ذریعے جامع بحث کے بعد، جولائی چارٹر میں اہم تجاویز کو حتمی شکل دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا، ”پارلیمنٹ کی تشکیل کے 30 کام کے دنوں کے اندر اصلاح کونسل کا اجلاس ہونا لازمی ہے۔ لیکن اس قاعدے کے باوجود دوسرا سیشن ابھی تک منعقد نہیں ہوا ہے“۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن