
بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ نے کہا - جولائی 2025 کا قومی چارٹر نفاذ آرڈر لا متناہی فریب
ڈھاکہ، یکم اپریل (ہ س)۔ بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ صلاح الدین احمد نے ’جولائی 2025 قومی چارٹر (آئینی اصلاحات) نفاذ آرڈر، 2025‘ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ’فریب کی لا متناہی دستاویز‘ اور ’قومی دھوکہ دہی‘ قرار دیا۔ حزبِ اختلاف رہنما کی شروع کردہ بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے منگل کی دیر رات پارلیمنٹ میں زور دے کر کہا کہ اس آرڈر کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ یہ شروع سے ہی غیر قانونی ہے۔
انہوں نے عبوری حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ دستاویز پیش کرنے سے پہلے اس نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ’اختلافی نوٹ‘ کو شامل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا، ”سیاسی جماعتوں کی اختلافی رائے کو باہر رکھنا قومی دھوکے کے برابر ہے“۔ صلاح الدین احمد نے حالیہ صدارتی حکم پر قانونی اعتراضات اٹھاتے ہوئے دلیل دی کہ ایسے احکامات جاری کرنے کا اختیار 7 اپریل، 1973 کے بعد ختم ہو گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا، ”7 اپریل، 1973 کے بعد، صدر کے پاس ایسا حکم جاری کرنے کی طاقت نہیں رہی تھی۔ تو پھر یہ حکم کیسے جاری کیا گیا؟“ انہوں نے کہا کہ جو آرڈر اپنی شروعات سے ہی کالعدم ہو، وہ قانونی زبان میں ’شروع سے ہی کالعدم‘ کہلاتا ہے اور اس لیے اسے نہ تو آرڈیننس مانا جا سکتا ہے اور نہ ہی قانون۔
وزیرِ داخلہ نے ریفرنڈم کے بیلٹ پیپر کی ساخت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ووٹرز کو چار مختلف سوالات کا جواب صرف ’ہاں‘ یا ’ناں‘ میں دینے کے لیے مجبور کیا گیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ عوام پر کسی بھی قانون کو اس طرح مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ عبوری انتظامیہ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک نگراں حکومت کے پاس بنیادی قومی مسائل پر فیصلے لینے کا اختیار نہیں ہوتا۔
وزیرِ داخلہ نے آئینی اصلاحات کونسل کے ارکان کے حلف اٹھانے کے سلسلے میں الیکشن کمیشن پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ’غیر موجود ادارے‘ کے ارکان کو حلف دلانے کے لیے کوئی قانونی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر نے پارلیمنٹ کو حلف نامہ بھیج کر اپنے دائرہ اختیار کی خلاف ورزی کی اور اس طرح آئین کی پاسداری کے اپنے ہی آئینی حلف کی بھی خلاف ورزی کی۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے موقف کو واضح کرتے ہوئے صلاح الدین احمد نے کہا، ”پورے ملک میں یہ غلط فہمی پھیلانے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے کہ بی این پی اصلاحات نہیں چاہتی یا ’جولائی قومی چارٹر‘ کی حمایت نہیں کرتی۔ تاہم، ہم تاریخی طور پر دستخط شدہ ’جولائی قومی چارٹر‘ کے ہر حرف، لفظ اور جملے کی مکمل پیروی کرتے ہیں۔ ہم سیاسی اتفاقِ رائے پر مبنی اصلاحات چاہتے ہیں، نہ کہ کسی غیر قانونی حکم پر“۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ملک کے عوام نے 51 فیصد ووٹوں کے ساتھ بی این پی کو اپنا مینڈیٹ دیا ہے۔
وزیرِ داخلہ نے ریاست کی ساخت میں اصلاحات کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا، ”میں ایوان کے رہنما (وزیراعظم) کی جانب سے ایک تجویز پیش کر رہا ہوں، جس میں پارلیمنٹ میں نمائندگی کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان، نیز آزاد ارکان کو شامل کر کے ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی تجویز ہے“۔ انہوں نے تجویز دی کہ کمیٹی وسیع پیمانے پر قابلِ قبول آئینی ترمیمی بل کا مسودہ تیار کرنے کے لیے مذاکرات اور اتفاقِ رائے کے ذریعے کام کرے گی اور اسے پارلیمنٹ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرے گی۔
اس معاملے میں اپوزیشن نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ حزبِ اختلاف رہنما اور بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمن نے کہا ہے کہ آئینی اصلاحات پر پارلیمانی بحث کے دوران وزیرِ قانون نے ان کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا۔ انہوں نے یہ بات منگل کی دیر رات ایک پریس بریفنگ کے دوران کہی۔ یہ بریفنگ ’جولائی قومی چارٹر نفاذ آرڈر‘ کے تحت ’آئین اصلاح کونسل‘ بلانے کی تجویز پر ہونے والی بحث کے بعد ہوئی تھی۔
’دی ڈیلی اسٹار‘ کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا، ”بات چیت کے دوران حکمران جماعت نے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی۔ ہم نے کہا کہ ہم یہاں بحران کو حل کرنے آئے ہیں، نہ کہ کوئی نیا بحران پیدا کرنے۔ اس لیے، ہم حل چاہتے ہیں۔ لیکن اب یہ معاملہ کچھ حد تک پیچیدہ ہو گیا ہے“۔
حزبِ اختلاف رہنما نے کہا، ”تاہم، شرط یہ ہے کہ کمیٹی میں دونوں فریقوں کی یکساں نمائندگی ہونی چاہیے۔ اگر ارکان کا تقرر برابری کے بجائے تناسب کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، تو کسی مثبت نتیجے کا امکان بہت کم ہے“۔ شفیق الرحمن نے کہا کہ وزیرِ قانون نے ان کے بیان کو غلط رنگ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آئینی ترمیم کی تجویز قبول کر لی ہے، جبکہ انہوں نے صرف آئینی اصلاحات کی بات کی تھی۔
شفیق الرحمن نے مزید کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ کی تشکیل ایک خاص تناظر میں ہوئی تھی۔ ”1952 کی تحریکِ زبان، 1971 کی جنگِ آزادی، 1990 کی عوامی تحریک اور 2004 کی عوامی بغاوت کے ذریعے لوگوں کے حقوق اور امنگوں کی تکمیل نہیں ہو پائی تھی۔ اس تناظر میں، آئینی اصلاحات ضروری ہو گئی ہیں“۔ انہوں نے بتایا کہ چھ عبوری حکومتی اصلاحاتی کمیشنوں اور بعد میں قومی اتفاقِ رائے کمیشن کے ذریعے جامع بحث کے بعد، جولائی چارٹر میں اہم تجاویز کو حتمی شکل دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا، ”پارلیمنٹ کی تشکیل کے 30 ایامِ کار کے اندر اصلاح کونسل کا اجلاس ہونا لازمی ہے۔ لیکن اس قاعدے کے باوجود دوسرا سیشن ابھی تک منعقد نہیں ہوا ہے“۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن