
امریکہ اور ایران امن کی راہ پر، ٹرمپ کو تین ہفتوں میں جنگ ختم ہونے کی امید
واشنگٹن، یکم اپریل (ہ س)۔ امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان 28 فروری سے جاری جنگ کے شعلوں سے تیل اور گیس کے حوالے سے مچے ہاہاکار کے درمیان صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دعوے سے راحت کی کچھ امید جاگی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی ایران سے جنگ روکنے پر براہِ راست بات ہو رہی ہے۔ تاہم، ایران نے ٹرمپ کے اس دعوے سے انکار کیا ہے، مگر کہا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکہ، ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم کو دو یا تین ہفتوں میں ختم کر لے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران بات چیت کر رہے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ دونوں ملک اس سے پہلے ہی کسی معاہدے پر پہنچ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی باضابطہ معاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایران نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ کوئی براہِ راست بات چیت ہو رہی ہے، لیکن اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ گیس کی بڑھی ہوئی قیمتیں کب کم ہوں گی؟ ٹرمپ نے کہا، ’’مجھے بس ایران جنگ سے باہر نکلنا ہے اور ہم بہت جلد ایسا کرنے والے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد اگر دوسرے ممالک کو ’اسٹریٹ آف ہرمز‘ کے راستے مڈل ایسٹ سے تیل یا نیچرل گیس درآمد کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، تو انہیں اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی۔ ہرمز میں کسی کے ساتھ کچھ بھی ہوتا ہے تو امریکہ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔ رہی بات چین اور فرانس جیسے دوسرے ممالک کی، تو وہ اپنی حفاظت کرنے میں اہل ہیں۔
اس وقت تیل بردار ٹینکروں نے ہارمز سے گزرنا تقریباً بند کر دیا ہے۔ پہلے ٹرمپ نے وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو امریکی فوج کی سیکورٹی دینے کی تجویز رکھی تھی، لیکن حال ہی میں انہوں نے اپنا رخ بدل لیا ہے۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ اس آبی گزرگاہ کو پھر سے کھولنے کی ذمہ داری ان ممالک کی ہونی چاہیے جو مڈل ایسٹ کے تیل پر منحصر ہیں۔ یہ اہم ہے کہ امریکہ خلیج فارس کے خطے سے زیادہ پٹرولیم درآمد نہیں کرتا ہے اور اپنی ضرورت سے زیادہ تیل خود ہی پیدا کرتا ہے، لیکن ہارمز میں رکاوٹوں کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ایسے ممالک میں امریکہ بھی شامل ہے۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات چیت کرنے سے پہلے اپنے ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا، ”جاو، اپنا تیل خود حاصل کرو!“
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن