
نئی دہلی، یکم اپریل (ہ س)۔ سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں ( او ایم سی ) نے نئے مالی سال 2026-27 کے پہلے دن ہی اے ٹی ایفیعنی ایوی ایشن ٹربائن فیول یا یوں کہیں کہ جیٹ فیول کی قیمت میں زبردست اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے سے جیٹ فیول کی قیمت پہلی بار دو لاکھ روپے فی کلو لیٹر کے نشان سے تجاوز کر گئی ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری بحران کی وجہ سے ملک میں پہلی بار جیٹ فیول کی قیمت میں دگنی سے بھی زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔
غور طلب ہے کہ یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے جب سرکاری تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں نے جیٹ ایندھن کی قیمت میں اضافہ کیا ہے۔ آج اس کی قیمتوں میں دوگنا سے بھی زیادہ کا اضافہ ہونے کی وجہ سے تمام ایئر لائنز سمیت سول ایوی ایشن کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کے آپریٹنگ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہونا طے ہے ۔ اس صورتحال میں ہوائی سفر مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے۔
اس سلسلے میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق، دہلی میں جیٹ ایندھن کی قیمت میں 1,10,703.08 روپے فی کلو لیٹر یعنی 114.5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد اس کی قیمت 2,07,341.22 روپے فی کلو لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ آج سے پہلے، پچھلے مہینے یکم مارچ کو، اے ٹی ایف کی قیمت میں 5,244.75 روپے فی کلو لیٹریعنی 5.70 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے آج کے اضافے کے بعد، جیٹ فیول (اے ٹی ایف) کی قیمت پہلی بار 2 لاکھ روپے فی کلو لیٹر کے نشان کو عبور کر گئی ہے۔ اس سے پہلے، اے ٹی ایف کی قیمتیں 2022 میں اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ اس وقت، جب یوکرین پر روس کے حملے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، جس کی وجہ سے جیٹ فیول کی قیمت 1.10 لاکھ روپے فی کلو لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم، بعد میں قیمت میں کمی آئی، جس سے جیٹ فیول 1 لاکھ روپے سے نیچے آگیا۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے پوری دنیا میں توانائی کا بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس تنازع سے سبب خام تیل کی نقل و حمل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ آبنائے میں ہرمز میں تقریباً بند جیسی صورتحال آگئی ہے۔ نتیجتاً، اس راستے سے کئی ممالک کو گیس اور خام تیل کی سپلائی رک گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ، اس جنگ اور آبنائے ہرمز کی رکاوٹ خام تیل کی قیمتیں آسمان چھونے کا باعث بھی بنی ہیں۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد