پی این جی ایس ریوا ڈائمنڈز کا اسٹاک مارکیٹ میں کمزور آغاز، خسارے میں آئی پی او کے سرمایہ کار
نئی دہلی، 4 مارچ (ہ س)۔ ہیرے کے زیورات پروڈکشن کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی پی این جی ایس ریوا ڈائمنڈ جیولری لمیٹڈ کے شیئروں نے آج اسٹاک مارکیٹ میں ڈسکاو¿نٹ کے ساتھ انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مایوس کر دیا۔ آئی پی او کے تحت کمپنی
IPO-Listing-PNGS-Reva-Diamond


نئی دہلی، 4 مارچ (ہ س)۔ ہیرے کے زیورات پروڈکشن کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی پی این جی ایس ریوا ڈائمنڈ جیولری لمیٹڈ کے شیئروں نے آج اسٹاک مارکیٹ میں ڈسکاو¿نٹ کے ساتھ انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مایوس کر دیا۔ آئی پی او کے تحت کمپنی کے حصص 386 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج، بی ایس ای پراس کی لسٹنگ 3.60 فیصد کی رعایت کے ساتھ 372 روپے کی سطح پر ہوئی۔ لسٹنگ کے بعد، فروخت کادباو¿ بننے کی وجہ سے یہ شیئر 360 روپے تک گر گیا۔ تاہم خریداری کا زور بننے پر یہ 380 روپے تک پہنچنے میں بھی کامیاب رہا۔مارکیٹ میں جاری خرید و فروخت کے درمیان صبح 11:30 بجے کمپنی کے حصص 374 روپے پرکاروبار کر رہے تھے۔ اس طرح، اب تک کے کاروبار میں، آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی حصص 12 روپےیعنی 3.11 فیصد کا نقصان ہو چکا ہے۔

پی این جی ایس ریوا ڈائمنڈ جیولری لمیٹڈ کا 380 کروڑ روپے کا آئی پی او 24 سے 26 فروری کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے ہلکا ردعمل ملا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پراسے 1.23 گنا سبسکرائب کیا گیا ۔ ان میں سے، اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی ) کے لیے مختص حصہ 1.04 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مختص حصہ 1.54 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اسی طرح خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ 1.29 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اس آئی پی او کے تحت،10روپے فیس ویلیو والے 98,44,559 نئے حصص جاری کیے گئے ہیں۔ آئی پی او کے ذریعے جمع کئے گئےفنڈز کا استعمال کمپنی 2028 تک 15 نئے اسٹورز کھولنے، ریوا برانڈ کی مارکیٹنگ اور فروغ دینے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے کرے گی۔

کمپنی کی مالی حالت کے بارے میں بات کریں ،تو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبیکے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی ) میں کیے گئے دعوے کے مطابق، اس کی مالی حالت میں اتار- چڑھاو¿ ہوتارہا ہے۔ مالی سال 2022-23 میں، کمپنی کا خالص منافع 51.75 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2023-24 میں کم ہو کر 42.41 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 59.47 کروڑ روپے ہو گیا۔ موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں یعنی اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک، کمپنی نے 20.13 کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا ہے۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی اتار- چڑھاو¿ آیا۔ مالی سال 2022-23 میں، اس نے 199.35 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2023-24 میں گھٹ کر 196.24 کروڑ ہو گئی اور مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 259.11 کروڑ روپے ہو گئی۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں، اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک، کمپنی نے 157.12 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی ہے۔

اس دوران کمپنی کے قرضوں کے بوجھ میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ کمپنی مالی سال 2023-24 تک قرض سے پاک تھی، لیکن اس کے بعد 2024-25 میں 90.65 کروڑ روپے کے قرض کے بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں، اپریل سے 30 ستمبر، 2025 تک، کمپنی پر 130.25 کروڑ روپے قرض کا بوجھ تھا۔

اس عرصے کے دوران، کمپنی کے ریزرو اور سرپلس پوزیشن میں بہتری آئی۔ 2023-24 تک، کمپنی کے ریزرو اور سرپلس اکاو¿نٹ میں منفی بیلنس تھا، لیکن 2024-25 میں اس میں بہتری آئی۔ اس سال، کمپنی کے ریزرو اور سرپلس اکاو¿نٹ کو 95.33 کروڑ روپے ملے۔ اسی طرح، موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران، یعنی اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک، یہ رقم 98.44 کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گئی۔

اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (سود، ٹیکس، فرسودگی، اور معافی سے پہلے کی آمدنی) 2022-23 میں 68.73 کروڑ روپے کی سطح پر تھی، جو 2023-24 میں گھٹ کر56.14کروڑ روپے رہ گئی۔ دریں اثنا،2024-25 میں کمپنی کاای بی آئی ٹی ڈی اے بڑھ کر 79.61کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی یعنی اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک، یہ30.79کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande