
نیویارک/تہران، 31 مارچ (ہ س)۔
اقوامِ متحدہ سے وابستہ اہلکار محمد صفا نے ایران پر ممکنہ ایٹمی حملے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ تہران پر بڑے پیمانے پر حملے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس کے بارے میں عالمی سطح پر کافی سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی ہے۔
صفا نے اپنے بیان میں کہا کہ ”لوگ اس معاملے کی سنگینی کو نہیں سمجھ رہے ہیں“ اور الزام لگایا کہ لاکھوں عام شہریوں کو متاثر کرنے والی ممکنہ کارروائی کی تیاری ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معلومات کو عام کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنا سفارتی کیریئر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے فرائض کو معطل کر دیا ہے تاکہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کا حصہ نہ بنیں جسے انہوں نے ”انسانیت کے خلاف جرم“ قرار دیا۔ صفا نے ’نیوکلیئر ونٹر‘ (ایٹمی سرما) جیسی صورتحال کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وقت رہتے قدم اٹھانا بے حد ضروری ہے۔
ایران کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان صفا کا یہ تبصرہ بین الاقوامی سطح پر نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ تاہم، ان کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر کوئی سرکاری ردِعمل سامنے آیا ہے۔
اپنے پیغام کے آخر میں صفا نے عالمی برادری سے محتاط رہنے اور ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال بے حد خطرناک ہے اور اسے روکنے کے لیے فوری کوششیں ضروری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن