
واو تھراڈ، 31 مارچ (ہ س)۔ گجرات کے واو تھراڈ میں ایک بڑے پروگرام میں وزیر اعظم نریندر مودی نے 20,000 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا، افتتاح کیا اور انہیں وقف کیا۔ یہ منصوبے سڑکوں، ریلوے، توانائی، شہری ترقی، صحت، پانی کی فراہمی، سیاحت اور دیہی ترقی جیسے اہم شعبوں پر محیط ہیں، جس کا مقصد علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانا اور سماجی و اقتصادی ترقی کو تیز کرنا ہے۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے عالمی منظر نامے کو نوٹ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے دنیا کے کئی حصے جنگ، بدامنی اور عدم استحکام کی لپیٹ میں ہیں۔ خاص طور پر مغربی ایشیا کی صورتحال نے توانائی کے بحران کو جنم دیا ہے جس کا اثر پوری دنیا پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ان مشکل وقتوں میں استحکام کو برقرار رکھا ہے، جو ملک کی مضبوط خارجہ پالیسی اور اپنے شہریوں کے اتحاد کا نتیجہ ہے۔وزیر اعظم نے اپوزیشن بالخصوص کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ کچھ سیاسی جماعتیں اس مشکل وقت میں بھی تقسیم کی سیاست میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین اتحاد کو فروغ دینے کے بجائے خوف اور افواہیں پھیلانے میں مصروف ہیں جو کہ قومی مفادات کے خلاف ہے۔ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گجرات کے ہر گاو¿ں کو بہتر سڑکوں سے جوڑا گیا ہے اور جدید ہائی سپیڈ ہائی ویز تعمیر کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست وندے بھارت ایکسپریس جیسی جدید ٹرین خدمات بھی حاصل کر رہی ہے جس سے سفر کو آسان اور تیز تر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ’جب تک عوام کا اعتماد برقرار ہے، پنچایتوں سے لے کر پارلیمنٹ تک، ترقی کا سپرفاسٹ ایکسپریس اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہے گا۔
شمالی گجرات کے ماضی کے حالات کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ خطہ کبھی خشک سالی اور قحط کے لیے جانا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں کانگریس کی حکومتوں نے اس خطہ کو نظر انداز کیا جس کے نتیجے میں لوگوں کو کئی کلومیٹر دور سے پانی لانا پڑا اور زندگی ایک کشمکش میں مبتلا تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے علاقے کا منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے۔وزیر اعظم نے ڈیسا ایئربیس کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ان کا طیارہ براہ راست وہاں اترا ہے۔ بین الاقوامی سرحد سے تقریباً 130 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ ایئربیس قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ان کے وزیر اعلیٰ کے دور میں شروع کیا گیا تھا لیکن سابقہ حکومتوں کی بے حسی کی وجہ سے برسوں سے التوا کا شکار رہا۔توانائی کے شعبے میں، تقریباً 3,650 کروڑ روپے کے ٹرانسمیشن پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا، جس میں خواڑا پولنگ اسٹیشن-2 اور 4.5 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی کے لیے ٹرانسمیشن سسٹم شامل ہے۔ اس سے ریاست میں سبز توانائی کے استعمال کو فروغ ملے گا۔
ریلوے کے شعبے میں، کنلاس-جام نگر (28 کلومیٹر) اور راجکوٹ-کنالاس (111.20 کلومیٹر) کو دوہرا کرنے کے منصوبے، گاندھی دھام-آدی پور سیکشن کو چوڑا کرنے کے ساتھ، قوم کو وقف کیا گیا تھا۔ اس سے ریل ٹریفک کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور مال برداری اور مسافروں کی نقل و حرکت میں تیزی آئے گی۔ مزید برآں، ہمت نگر-کھڈ برہما گیج کی تبدیلی کے منصوبے کا افتتاح کیا گیا، اور ایک نئی ٹرین سروس کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا۔شہری ترقی کے تحت، تقریباً 5,300 کروڑ روپے کے 44 پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا اور سنگ بنیاد رکھا گیا، جس کا مقصد شہری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ صحت کے شعبے میں احمد آباد اور گاندھی نگر کے اسپتالوں میں نئی سہولیات کا افتتاح کیا گیا، جو مریضوں کی بہتر خدمات فراہم کررہے ہیں۔سیاحت کو فروغ دینے کے لیے پٹن کے رانی کی واو میں لائٹ اینڈ ساو¿نڈ شو اور وڈ نگر میں واٹر اسکرین پروجیکشن شو کا افتتاح کیا گیا۔ مذہبی مقامات پر سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
پانی کی فراہمی کے شعبے میں، تقریباً 1,780 کروڑ روپے کی مالیت کے دو بڑے پائپ لائن پروجیکٹوں کو قوم کے لیے وقف کیا گیا، جس سے بناسکانتھا اور پٹن اضلاع کے کئی علاقوں کو فائدہ پہنچا۔ امباجی اور آس پاس کے دیہی علاقوں کے لیے ایک نئی واٹر سپلائی اسکیم کا بھی سنگ بنیاد رکھا گیا، جس سے تقریباً 1.5 لاکھ لوگوں کو پینے کا پانی مہیا ہو گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ تمام منصوبے نہ صرف انفراسٹرکچر کو مضبوط کریں گے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کریں گے اور خطے کی مجموعی ترقی کو ایک نئی سمت دیں گے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ گجرات ترقی کی اس رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے ملک کی ترقی میں قائدانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan