بنیادی سہولتوں کی کمی نے مولانا آزاد نگر کے باشندوں کی زندگی مشکل کر دی
علی گڑھ, 31 مارچ (ہ س) (۱) علی گڑھ کے محلہ مولانا آزاد نگر کی حالت تشویشناک ہو گئی ہے۔ تقریباً40 ؍ہزار آبادی والے اس علاقے میں لوگ آج بھی بنیادی سہولتوں کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سب سے بڑی مشکل محلے کے مرکزی نالے کی ہے۔ پانی نکاسی کے لئے بنایا
گندگی سے بھرا ہوا نالا


علی گڑھ, 31 مارچ (ہ س)

(۱) علی گڑھ کے محلہ مولانا آزاد نگر کی حالت تشویشناک ہو گئی ہے۔ تقریباً40 ؍ہزار آبادی والے اس علاقے میں لوگ آج بھی بنیادی سہولتوں کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سب سے بڑی مشکل محلے کے مرکزی نالے کی ہے۔ پانی نکاسی کے لئے بنایا گیا یہ نالا مکمل طور پر کچا ہے اور جگہ جگہ سے ٹوٹا ہوا ہے۔ اسمیں پالی تھین، کچرا اور گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، جس سے نہ صرف بدبو پھیلتی ہے بلکہ بیماریوں کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب تک اس نالے کی پختہ تعمیر نہیں ہوگی، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔علاقے میں آمد و رفت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مولانا آزاد نگر کو جمالپور سے جوڑنے والے چوراہے پر تجاوزات کی وجہ سے جام لگا رہتا ہے اور لوگوں کو دشواری ہوتی ہے۔ علی گڑھ بریلی ریلوے لائن کے نیچے ایک تنگ راستہ ہی واحد ذریعہ ہے، جو اکثر رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس لئے یہاں انڈر پاس بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔محلے کی گلیاں اونچی نیچی ہیں، جسکی وجہ سے پانی بھرنے کا مسئلہ عام ہے۔ برسات میں کئی گلیاں تالاب بن جاتی ہیں اور پانی گھروں تک پہنچ جاتا ہے۔ اسکے علاوہ گندگی کے ڈھیر، خراب اسٹریٹ لائٹیں اور گلیوں میں پھیلی گندگی لوگوں کی مشکلات کو بڑھا رہی ہیں۔ پینے کے پانی کی حالت بھی خراب ہے۔ زیادہ تر ہینڈ پمپ خراب ہیں ، جس سے لوگوں کو پانی کے لئے ادھر ادھر جانا پڑتا ہے۔

مقامی باشندے اکرم، صادق، شاہد، علی، محمد اقبال اور یاسین شریف کا کہنا ہے کہ شکایات کے باوجود کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوتی۔ انکا مطالبہ ہے کہ نالے کو پختہ کیا جائے، انڈر پاس بنایا جائے اور بنیادی سہولتوں کو بہتر کر کے وارڈ کی حالت سدھارا جائے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande