
حیدرآباد ، 31 مارچ (ہ س) حیدرآباد کے علاقے کوتہ گوڑہ میں شمشان گھاٹ سے متعلق معاملہ اس وقت موضوعِ بحث بن گیا جب مقامی لوگوں نے سڑک کی توسیع کے دوران ہونے والی مسماری پر تشویش ظاہر کی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ شمشان گھاٹ وہ جگہ ہے جہاں وہ نسلوں سے اپنے بزرگوں کی آخری رسومات ادا کرتے آرہے ہیں۔
مقامی مکینوں کے مطابق جی ایچ ایم سی حکام نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے آ کر شمشان گھاٹ کی حدودی دیوار کو منہدم کر دیا، جس سے لوگوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف زمین کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کے آبا و اجداد کی یادوں سے جڑا ہوا مقام ہے۔ مقامی افراد نے بتایا کہ شمشان گھاٹ کا کل رقبہ تقریباً ساڑھے چارایکڑ تھا، جس میں سے پہلے ہی سڑک کی توسیع کے لیے کافی حصہ لیا جاچکا ہے۔ اب صرف تقریباً 2000 گز زمین باقی رہ گئی ہے، اور مزید مسماری سے آخری رسومات کے لیے بھی جگہ کم پڑ سکتی ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ترقی کے نام پر اس طرح شمشان گھاٹ کی زمین لینا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں یہاں تدفین یا آخری رسومات کے لیے جگہ ہی نہیں بچے گی۔
مقامی افراد نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں انصاف ملنے تک اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور چاہتے ہیں کہ متعلقہ حکام اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کریں تاکہ علاقے میں لوگوں کے جذبات اور ضروریات دونوں کا خیال رکھا جا سکے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق