
ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کا “نکاح کو آسان بنائیں” کے موضوع پر بصیرت افروز خطابنئی دہلی (لکشمی نگر)،31مارچ(ہ س)۔ جماعت اسلامی ہند کے لکشمی نگر یونٹ کے تحت مشترکہ ہفتہ وار پروگرام کا انعقاد مدرسہ اظہار العلوم، آرام پارک میں کیا گیا۔ یہ پروگرام لکشمی نگر یونٹ کے تمام سرکلوں کڑکڑڈوما، کورٹ، جگتپوری، تاج انکلیو، خوریجی، آرام پارک، سروجنی پارک، نیو لاہور، رمیش پارک، للتا پارک شورکا کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں مقامی افراد اور کارکنان نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی (سیکرٹری جماعت اسلامی ہند) نے “نکاح کو آسان بنائیں” کے عنوان پر قرآن و حدیث کی روشنی میں خطاب کرتے ہوئے نکاح کی اہمیت اور معاشرے میں اس کے مثبت اثرات کو واضح کیا۔ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے کہا کہ نکاح اسلام میں ایک مقدس اور فطری عمل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی پاکیزگی اور بقا کے لیے مشروع قرار دیا ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نکاح کے سلسلے میں مسلمانوں کا نام لے کر مخصوص خطاب نہیں کیا بلکہ تمام لوگوں کو مخاطب کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح ایک عالمگیر اور انسانی فطرت کے مطابق نظام ہے۔انہوں نے کہا کہ نکاح کا پہلا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی جائز جنسی خواہشات کو شرعی حدود کے اندر پورا کرے تاکہ معاشرے میں بے حیائی اور گندگی نہ پھیلے اور سماج پاک و صاف رہے۔ دوسرا مقصد نسل انسانی کی بقا اور انسانیت کا تحفظ ہے، اسی لیے نکاح کو ایک مقدس بندھن قرار دیا گیا ہے۔حق مہر کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام نے عورت کو عزت و وقار عطا کیا اور حق مہر کو اس کا بنیادی حق قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن نے چودہ سو سال پہلے ہی عورتوں کو حقوق دے کر انہیں خود کفیل بنانے کی بنیاد رکھی اور حق مہر عورت کی عزت ہے، کیونکہ حق مہر کے بغیر عورت حلال نہیں ہو سکتی۔پروگرام میں انجینئر عبد المنان صاحب (ناظم علاقہ، ایسٹ دہلی)، واثق امام صاحب، فلاح الدین فلاحی صاحب امیر مقامی، ثنائ اللہ صاحب، ایس ٹی رضا صاحب سمیت سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔آخر میں شرکاءنے اس بات پر زور دیا کہ نکاح کو آسان بنایا جائے اور معاشرے میں اسلامی خاندانی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے ایسے اصلاحی پروگراموں کو مسلسل جاری رکھا جائے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais