لیبیا سے یونان جا رہی تارکینِ وطن کی کشتی سمندر میں راستہ بھٹکی، 22 کی موت، ان میں 12 بنگلہ دیش کے
ڈھاکہ، 31 مارچ (ہ س)۔ لیبیا سے یونان جا رہی تارکینِ وطن کی کشتی سمندر میں راستہ بھٹک گئی۔ اس دوران 22 افراد کی موت ہو گئی۔ ان میں 12 نوجوان بنگلہ دیشی شہری ہیں۔ سنام گنج کے ڈپٹی کمشنر محمد الیاس میاں نے اس کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامی
ڈھاکا ٹریبیون نے کشتی حادثے میں ہلاک ہونے والے 8 بنگلہ دیشی شہریوں کی فوٹو اپنی رپورٹ کے ساتھ ویب سائٹ پر اپلوڈ کی ہیں۔


ڈھاکہ، 31 مارچ (ہ س)۔

لیبیا سے یونان جا رہی تارکینِ وطن کی کشتی سمندر میں راستہ بھٹک گئی۔ اس دوران 22 افراد کی موت ہو گئی۔ ان میں 12 نوجوان بنگلہ دیشی شہری ہیں۔ سنام گنج کے ڈپٹی کمشنر محمد الیاس میاں نے اس کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ اس واقعے کے لیے ذمہ دار انسانی اسمگلروں کے خلاف معاملہ درج کرے گی۔

’ڈھاکہ ٹریبیون‘ کی رپورٹ کے مطابق، سنام گنج کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سوجن سرکار نے بتایا کہ اب تک انہوں نے 12 شہریوں کی موت کی تصدیق کی ہے۔ ان میں سے 6 افراد ڈیرائی سب ڈسٹرکٹ کے، 5 افراد جگن ناتھ پور سب ڈسٹرکٹ کے اور ایک شخص دورا بازار سب ڈسٹرکٹ کا رہنے والا ہے۔ سنام گنج کے ڈپٹی کمشنر محمد الیاس نے کہا کہ ان کی لاشیں سمندر سے مل گئی ہیں۔ 28 مارچ کو بچائے گئے 26 افراد کو یونان کے ایک کیمپ میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس، خاندان کے افراد، پڑوسیوں اور مقامی نمائندوں سے بات چیت کرنے کے بعد اب تک 12 متوفین کی شناخت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ جان گنوانے والوں میں محمد نور الزماں سردار موینا (30)، ساجد الرحمن (28)، ساہن اہیا (25)، مجیب الرحمن (38)، تائیک میاں، ابو فہیم، سوہنور الرحمن، سائق احمد، محمد نعیم میاں، امین الرحمن اور محمد علی شامل ہیں۔

متاثرہ خاندان کے ارکان نے الزام لگایا کہ انسانی اسمگلروں نے نوجوانوں کو 12 سے 15 لاکھ ٹکا کے عوض اٹلی پہنچانے کا وعدہ کر کے پھنسایا تھا۔ سب کو سب سے پہلے لیبیا لے جایا گیا۔ انہیں زبردستی ٹھسا ٹھس بھری ہوئی کشتیوں میں بٹھا دیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ یونانی کوسٹ گارڈ نے 28 مارچ کو 26 افراد کو بچایا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande