ایران کے اصفہان شہر پر حملہ، دبئی میں بڑا ٹینکر آگ کے شعلوں میں گھرا
تہران/کویت سٹی/بیروت/بغداد، 31 مارچ (ہ س)۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے تاریخی شہر اصفہان پر زبردست حملہ کیا ہے۔ اس شہر کی آبادی تقریباً 23 لاکھ ہے اور یہاں ’بدر ملٹری ایئربیس‘ بھی موجود ہے۔ زوردار دھماکوں اور آگ کے شعلوں سے آج صبح تک آسمان
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان 28 فروری سے جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ جنگ کے شعلے پھیلتے ہی جا رہے ہیں۔ فوٹو - انٹرنیٹ میڈیا


تہران/کویت سٹی/بیروت/بغداد، 31 مارچ (ہ س)۔

امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے تاریخی شہر اصفہان پر زبردست حملہ کیا ہے۔ اس شہر کی آبادی تقریباً 23 لاکھ ہے اور یہاں ’بدر ملٹری ایئربیس‘ بھی موجود ہے۔ زوردار دھماکوں اور آگ کے شعلوں سے آج صبح تک آسمان روشن رہا۔ اس دوران ’کویت پٹرولیم کارپوریشن‘ نے بتایا ہے کہ دبئی بندرگاہ پر بڑے تیل بردار ٹینکر ’السلبی‘ پر ایران کے حملے کی وجہ سے آگ لگ گئی ہے۔ کارپوریشن نے انتباہ دیا ہے کہ اس سے تیل پھیل سکتا ہے۔ دوسری طرف، حزب اللہ نے اسرائیلی فوج پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، عینی شاہدین نے اصفہان میں حملے کی کئی ویڈیوز تیار کی ہیں۔ اصفہان ایران کا تیسرا سب سے بڑا اور ثقافتی لحاظ سے اہم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ ایران کا اہم صنعتی مرکز ہے، جہاں کپڑے اور فولاد کی ملیں موجود ہیں۔ یہاں ایران کا اہم ایٹمی مرکز (نتنز) اور فوجی میزائل بنانے کے کارخانے بھی ہیں، جس کی وجہ سے یہ اکثر سرخیوں میں رہتا ہے۔

دریں اثنا، حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجووں نے شمالی اسرائیل کی مسگاو ام بستی میں ایک فوجی چوکی کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرونز کی بوچھاڑ کر دی۔ یہی نہیں، جنوبی لبنان کے القنطرہ اور طیبہ قصبوں کے درمیان سڑک پر موجود ایک اسرائیلی مرکوا ٹینک پر گائیڈڈ میزائل سے حملہ کیا، جس سے ٹینک جل گیا۔

عراق کی ’پاپولر موبلائزیشن فورسز‘ کا کہنا ہے کہ امریکی-اسرائیلی افواج نے بابل اور انبار صوبوں میں ان کے دو ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ صوبہ بابل کے جرف النصر سیکٹر میں 45ویں بریگیڈ پر لگاتار تین فضائی حملے کیے گئے۔ ایک اور حملہ صوبہ انبار کے مشرق میں الکرما سیکٹر میں ہوا، جس میں 31ویں بریگیڈ کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری طرف، کرد نیم خود مختار علاقے میں واقع سلیمانیہ شہر کو نشانہ بنا کر کیے گئے دو حملوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande