
علی گڑھ، 31 مارچ (ہ س)۔
انصاف دیر سے ہی صحیح ملتا ضرور ہے ایسا ہی ایک معاملہ علی گڑھ پیش آیا ہے مستقل لوک عدالت نے طالب علم نریش کمار کی عرضی پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے اسے بی اے اول سال کے عام انگریزی مضمون میں دوبارہ امتحان دینے کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے مانا کہ طالب علم کی کوئی غلطی نہیں تھی بلکہ تعلیمی اداروں کی کوتاہی کی وجہ سے اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ساتھ ہی ذہنی اور مالی نقصان کو دیکھتے ہوئے معاوضہ دینے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ تھانہ اکبرآباد کے بھلاوٹی پوسٹ جالپور کا باشندہ نریش کمار نے بتایا کہ اس نے بی اے کا امتحان دھرم سماج ڈگری کالج کے تحت دیا تھا، ذاتی وجہ سے وہ انگریزی کے امتحان میں شامل نہیں ہو سکا۔ فیزیکل ایجوکیشن کا پرچہ پاس نہ ہونے پر وہ فیل ہو گیا۔ بعد میں اس نے دوسرے سال میں دوبارہ امتحان کے لئے آن لائن درخواست دی۔ اسمیں فیزیکل ایجوکیشن کا فارم تو منظور ہو گیا، لیکن انگریزی کے دوبارہ امتحان کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسکی وجہ سے اسکی آگے کی پڑھائی متاثر ہو گئی۔ اس نے کئی بار کالج میں اپنی شکایت حل کروانے کی کوشش کی، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
آخرکار اسے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ سماعت کے دوران عدالت نے مختلف ہائی کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی طالب علم کو ادارے کی طرف سے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت مل جائے تو بعد میں اسے اس بنیاد پر محروم نہیں کیا جا سکتا، جب تک اس کی طرف سے کوئی دھوکہ یا غلطی ثابت نہ ہو۔
مستقل لوک عدالت کے صدر شنکر لال، سینئر رکن ستیہ دیو اپادھیائے اور آرتی کی بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ نریش کمار کو آگرہ یونیورسٹی کے تحت بی اے اول سال کے عام انگریزی مضمون کا امتحان دوبارہ دینے کا موقع دیا جائے،ساتھ ہی متعلقہ اداروں کو ہدایت دیا کہ امتحان کی تاریخ اور درخواست کے عمل کی معلومات وقت پر فراہم کریں۔
طالب علم کو ہوئے ذہنی اور مالی نقصان کو دیکھتے ہوئے معاوضہ دینے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اسکے تحت دھرم سماج ڈگری کالج کو 10 ؍ہزار روپے اور ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر یونیورسٹی کو 20 ؍ہزار روپے ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ