
علی گڑھ، 31 مارچ ( ہ س ): علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کے تدریسی و غیر تدریسی ملازمین اور ریٹائرڈ عملے کا میں یونیورسٹی کی جائیدادوں، انتظامی معاملات اور مالی شفافیت سے متعلق کئی اہم قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد کے مطابق یونیورسٹی کی جائیدادوں، خصوصاً علی گڑھ پبلک اسکول اور چاچا نہرو اسکول کی زمین یا املاک پر کسی بھی قسم کے غیر قانونی قبضے یا ہتھیانے کی کوشش کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ شرکاء نے واضح کیا کہ ایسی کسی بھی کوشش کا اجتماعی طور پر بھرپور اور منظم مزاحمت کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا۔اجلاس میں علی گڑھ پبلک اسکول میں تعینات یونیورسٹی سکیورٹی عملہ کی مبینہ بلاجواز حراست اور پولیس اسٹیشن لے جا کر پوچھ گچھ کیے جانے کے واقعے کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسے غیر ضروری اور نامناسب کارروائی قرار دیا گیا۔مزید برآں، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ یونیورسٹی رجسٹرار کے جعلی دستخط کے ذریعے تقریباً 4.8 کروڑ روپے کی مبینہ دھوکہ دہی سے منتقلی کے معاملے میں ملوث افراد کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یونیورسٹی کی تمام جائیدادوں کا مکمل اور جامع ریکارڈ تیار کیا جائے، انہیں باقاعدہ دستاویزی شکل دی جائے اور جلد از جلد ڈیجیٹائز کیا جائے۔ ساتھ ہی غیر استعمال شدہ جائیدادوں پر نمایاں سائن بورڈ نصب کرنے کی بھی تجویز دی گئی تاکہ غیر قانونی قبضوں اور زمین ہتھیانے کی کوششوں کو روکا جا سکے۔اس موقع پر تمام ایسوسی ایشن اور یونیورسٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا گیا، جو یونیورسٹی کی جائیدادوں پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں پر نظر رکھے گی اور متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گی۔قرارداد میں انتظامی و مالی اختیارات کے حوالے سے بھی اہم نکات شامل کیے گئے، جن کے مطابق حتی الامکان ریٹائرمنٹ کے بعد کسی فرد کو ایسے اختیارات نہ دیے جائیں۔ اگر کسی غیر معمولی صورتحال میں ریٹائرڈ ملازمین کی تقرری ناگزیر ہو تو انہیں 70 سال کی عمر سے زائد توسیع نہ دی جائے اور یونیورسٹی قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے۔غور طلب ہے کہ علی گڑھ پبلک اسکول کی سابق او ایس ڈی پروفیسر ذکیہ اطہرصدیقی 2006 سے بطور او ایس ڈی کی خدمات انجام دے رہی تھی گذشتہ دنوں کچھ بے ضابطگیوں کے چلتے انکو پہلے چھٹی پر بھیجا گیا پھر نئے او ایس ڈی کی تعیناتی کی گئی اس کے بعد سے پروفیسر ذکیہ صدیقی اور انکی ٹیم کے ذریعہ اسکول چلانے کے تعلق سے کوششیں کی جارہی ہیں،یونیورسٹی نے کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے یونیورسٹی کے حفاظتی عملہ کو وہاں تعینات کیا جس کو پولیس کے ذریعہ گرفتار کروایا گیا، ذائع کے مطابق سابق او ایس ڈی نے ایک سوسائٹی رجسٹرد کرائی ہے جس کے تحت وہ اسکول کو چلانا چاہ رہی ہیں وہیں سابق رجسٹرار عبدالحمید کے جعلی دستخط سے اسکول فنڈ میں موجود رقم کو ٹرانسفر کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ان سبھی معاملات پر ٹیچرس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری پروفیسر اشرف متین نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ یونیورسٹی کی املاک کی حفاظت ہم سب کی اولین ترجیح ہے اور ہم اسکے لئے پابند عہد ہیں، یونیورسٹی کی ترجمان پروفیسر وبھا شرما نے بھی اس پورے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملہ کو یونیورسٹی انتظامیہ بہت سنجیدگی سے دیکھ رہاہے سبھی تنظیمیں اور انتظامیہ فکر مند ہے اور فل الحال سبھی چیزوں پر باریک بینی سے نظر رکھی جارہی ہے انھوں نے کہا کہ گذشتہ کچھ دنوں میں علی گڑھ پبلک اسکول کے متعلق جو کچھ واقعات ہوئے ہیں وہ تشویشناک ہیں۔میٹنگ میں بڑی تعداد میں یونیورسٹی کے ٹیچرس موجود رہے۔۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ