
واشنگٹن،30مارچ(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی رات اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ نسبتاً جلد ممکن ہے۔ٹرمپ نے بتایا کہ پاکستان کے ذریعے امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات اچھی پیش رفت سامنے آ رہی ہیں۔صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: میرا خیال ہے ہم ان کے ساتھ معاہدہ کر لیں گے، مجھے اس کا یقین ہے، لیکن ہم نے نظام میں تبدیلی بھی دیکھی ہے، اشارہ کرتے ہوئے کہ جاری جنگ کے دوران کئی ایرانی رہنما ہلاک ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ہم اب ایسے لوگوں سے بات کر رہے ہیں، جن سے پہلے کبھی کسی نے بات نہیں کی۔ یہ ایک بالکل مختلف گروہ ہے، اسی لیے میں اسے نظام میں تبدیلی سمجھتا ہوں۔ٹرمپ نے کہا: ہم ان مذاکرات میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں، لیکن ایران کے ساتھ نتیجے کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ ہم ان سے بات بھی کرتے ہیں اور ہمیں کبھی کبھار ان پر حملہ بھی کرنا پڑتا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی جنگ بندی منصوبے کا جواب دیا ہے، تو انہوں نے کہا کہ ایران نے جواب دے دیا ہے اور زیادہ تر نکات سے اتفاق کیا ہے۔ آخر کیوں نہ کریں؟اگرچہ ٹرمپ نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، لیکن ان کے مطابق تہران بڑی رعایتیں دے رہا ہے۔انہوں نے کہا: وہ ہماری تجویز سے متفق ہیں۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شاید زندہ ہیں، لیکن واضح طور پر شدید دباو¿ میں ہیں اور انہیں شدید چوٹ آئی ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے کئی اہم اہداف کو تباہ کر دیا ہے جنہیں ہم کافی عرصے سے نشانہ بنانا چاہتے تھے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران نے پیر کی صبح سے چند روز کے لیےبطور خیر سگالی اقدام کے طور پر پاکستانی پرچم بردار 20 آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔مزید یہ کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نےمذاکراتی لہجے کے برعکس ان ٹینکروں کی تعداد بڑھانے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کے تیل برآمدی مرکز، جزیرہ خارک، پر کنٹرول حاصل کرنے کی دھمکی بھی دی۔انہوں نے کہا: اگر ہم جزیرہ خارک پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو ممکن ہے ہمیں کچھ عرصے کے لیے وہاں اپنی فوج رکھنا پڑے۔ایرانی دفاعی نظام کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے کہا: ممکن ہے ہم خارک جزیرے پر قبضہ کر لیں اور ممکن ہے نہ کریں۔ ہمارے پاس کئی آپشنز ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہاں کوئی مضبوط دفاع موجود ہے، ہم اسے بہت آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔حکام کے مطابق ٹرمپ ایران کے تقریباً 1000 پاو¿نڈ یورینیم کو منتقل کرنے کے منصوبے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan