تائیوان کی اپوزیشن لیڈر نے چین کے دورے کے لیے شی کی دعوت قبول کر لی
تائپے،30مارچ(ہ س)۔تائیوان کی مرکزی اپوزیشن پارٹی کی رہنما نے چینی صدر شی جن پنگ کی طرف سے اپریل میں دور? چین کی دعوت قبول کر لی، ان کی پارٹی اور چینی سرکاری میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا۔کومینتانگ (کے ایم ٹی) کی چیئرپرسن چینگ لی ون نے امریکہ کے سرکاری
تائیوان کی اپوزیشن لیڈر نے چین کے دورے کے لیے شی کی دعوت قبول کر لی


تائپے،30مارچ(ہ س)۔تائیوان کی مرکزی اپوزیشن پارٹی کی رہنما نے چینی صدر شی جن پنگ کی طرف سے اپریل میں دور? چین کی دعوت قبول کر لی، ان کی پارٹی اور چینی سرکاری میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا۔کومینتانگ (کے ایم ٹی) کی چیئرپرسن چینگ لی ون نے امریکہ کے سرکاری دورے سے قبل شی سے ملاقات کرنے پر اصرار کیا جس پر ان کی پارٹی کے اندر اور باہر سے تنقید ہوئی ہے کہ وہ بہت زیادہ چین نواز ہیں۔کے ایم ٹی چین کے ساتھ قریبی تعلقات اور مزید تبادلوں کی وکالت کرتی ہے جبکہ چین کا دعویٰ ہے کہ تائیوان اس کی سرزمین کا حصہ ہے اور اس نے اس پر قبضہ کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کی دھمکی دی ہے۔

چینگ نے چین میں ایک وفد کی قیادت کرنے کی دعوت بخوشی قبول کر لی، ان کی پارٹی نے ڑنہوا کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا۔چینگ فریقین کی طرف سے مشترکہ کوششوں کی منتظر ہیں تاکہ باہمی تعلقات، باہمی تبادلے اور تعاون کے فروغ اور آبنائے تائیوان میں امن اور دونوں اطراف کے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ فلاح و بہبود کے لیے پرامن پیش رفت کی جائے، بیان میں کہا گیا۔ڑنہوا نے کہا کہ وفد سات سے 12 اپریل تک چینی سرزمین کا دورہ کرے گا لیکن یہ نہیں بتایا کہ کیا چینگ کی ڑی سے ملاقات ہو گی اور کہاں ہو گی جس کے لیے وہ عوامی طور پر اتنا زور دے رہی ہیں۔کے ایم ٹی کے بیان میں چند ہی تفصیلات تھیں۔کے ایم ٹی کے اندر خدشات ہیں کہ چینگ-ڑی ملاقات اس سال کے آخر میں تائیوان کے ضلعی انتخابات میں ووٹرز کے ردعمل کی وجہ بن سکتی ہے۔

اگرچہ کے ایم ٹی نے بیجنگ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی طویل عرصے سے حمایت کی ہے لیکن صدر لائی چنگ-ٹی کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) نے چینگ پر الزام لگایا ہے کہ حکومت کے دفاعی اخراجات کے منصوبے روک کر انہوں نے بیجنگ کے احکامات کی بجا آوری کی ہے۔لیکن گذشتہ ہفتے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے چینگ نے کہا تھا، شی سے مذکرات کا اہم علامتی معنی ہو گا اور یہ آبنائے تائیوان میں پرامن تعلقات کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔چینگ نے کہا، مجھے نہیں لگتا کہ ایک ملاقات وہ تمام مسائل حل کر سکتی ہے جو تقریباً ایک صدی سے جمع ہیں۔ لیکن مجھے امید ہے کہ میں کامیابی سے ایک ایسا پل بنا سکوں گی۔تائیوان کی پارلیمنٹ خصوصی دفاعی اخراجات کی تجاویز پر بحث کر رہی ہے جن کا مقصد ممکنہ چینی حملے کے خلاف جزیرے کی فوجی صلاحیتیں بہتر کرنا ہے۔لائی کی حکومت نے امریکی ہتھیاروں سمیت اہم دفاعی خریداریوں کے لیے 39 بلین ڈالر خرچ کرنے کی تجویز پیش کی ہے جبکہ کے ایم ٹی مزید حصول کے امکانات کے ساتھ امریکی ہتھیاروں کے لیے 380 بلین نیو تائیوان ڈالر مختص کرنا چاہتی ہے۔اگرچہ کے ایم ٹی نے مضبوط دفاع کی حمایت کی لیکن چینگ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ صرف زیادہ فوجی اخراجات سے چین کے ساتھ امن حاصل نہیں ہو سکتا۔چینگ نے کہا، سیاسی کوششیں بھی ہونی چاہئیں۔ سیاسی کوششیں کلیدی ہیں۔چین نے 2016 میں تائیوان سے اعلیٰ سطحی رابطے منقطع کر دیے تھے جب لائی کے پیشرو تسائی انگ وین نے اقتدار سنبھالا تھا۔ ان کا تعلق بھی ڈی پی پی سے ہے۔چینی رہنما لاءکو سخت ناپسند کرتے ہیں جنہیں بیجنگ علیحدگی پسند کہتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande