
تہران،30مارچ(ہ س)۔عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اتوار کو اطلاع دی کہ ایران میں خنداب کے مقام پر واقع بھاری پانی کا کارخانہ شدید متاثر ہوا ہے اور وہاں کام بند ہو گیا ہے۔روسی خبر رساں ادارے ٹاس کے مطابق عالمی ایجنسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا سیٹلائٹ تصاویر کے آزادانہ تجزیے اور کارخانے سے متعلق معلومات کی بنیاد پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ خنداب میں بھاری پانی کے کارخانے کو، جس کے بارے میں ایران نے 27 مارچ کو حملے کی اطلاع دی تھی، شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ غیر فعال ہو چکا ہے۔ایجنسی نے مزید واضح کیا کہ عمارت میں کوئی جوہری مواد نہیں پایا گیا۔ایک اور پیش رفت میں ایرانی میڈیا نے پیر کو علی الصبح شمالی ایران کے شہر تبریز میں ایک پیٹروکیمیکل تنصیب کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے سے کسی قسم کے خطرناک مواد کا اخراج نہیں ہوا۔ یہ کمپنی خام تیل یا قدرتی گیس حاصل کر کے اسے روزمرہ استعمال کی اشیائ ، جیسے پلاسٹک اور دیگر کیمیائی مصنوعات میں تبدیل کرنے کا کام کرتی ہے۔اسی دوران ایرانی وزیر توانائی عباس علی آبادی نے اتوار کو بتایا کہ دارالحکومت تہران اور صوبہ البرز میں بجلی کی تنصیبات پر حملے کیے گئے ہیں۔ وزیر کے بقول ان حملوں کی وجہ سے تہران اور کرج شہر میں بجلی کی فراہمی معطل ہوئی، جس کی بحالی کے لیے ماہر ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ اسی دوران ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے اطلاع دی کہ دارالحکومت اور کرج کے بیشتر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔سیاسی منظر نامے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر تہران امن معاہدے کے لیے مذاکرات پر راضی نہ ہوا تو وہ ایران کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، تاہم وہ بارہا اس ڈیڈ لائن میں توسیع کر چکے ہیں۔ گذشتہ جمعرات کی شام ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ ایرانی حکومت کی درخواست پر انہوں نے بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی مہلت میں 10 دن کا اضافہ کر دیا ہے، جو اب پیر 6 اپریل 2026 کی شام 8 بجے (امریکی مشرقی وقت) تک ہے۔بعد ازاں فوکس نیوز کے پروگرام دی فائیو میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا میں نے انہیں 10 دن کی رعایت دی ہے، جبکہ انہوں نے 7 دن مانگے تھے۔ واضح رہے کہ گذشتہ پیر کو بھی ٹرمپ نے بجلی گھروں پر کسی بھی ممکنہ فوجی حملے کو 5 دن کے لیے موخر کرنے کی ہدایت کی تھی۔ یہ ہدایت ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل جاری کی گئی تھی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan