آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے امریکا کا خصوصی فورسز بھیجنے پر غور
واشنگٹن،30مارچ(ہ س)۔امریکی اخبار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔اخبار نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی آبنائے ہرمز کو کھولنے کے طریقے پر غور کر رہے ہیں اور اشارہ دیا کہ آبن
آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے امریکا کا خصوصی فورسز بھیجنے پر غور


واشنگٹن،30مارچ(ہ س)۔امریکی اخبار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔اخبار نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی آبنائے ہرمز کو کھولنے کے طریقے پر غور کر رہے ہیں اور اشارہ دیا کہ آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے خصوصی دستے تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شام شائع ہونے والے اخبار ''فنانشل ٹائمز ''کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خبردار کیا کہ امریکی فوج باآسانی ایران کے اہم تیل بردار جزیرے خارک پر قبضہ کر سکتی ہے۔

ٹرمپ نے جزیرے کے دفاعی نظام سے متعلق سوال پر کہا:ممکن ہے ہم جزیرہ خارک پر قبضہ کر لیں اور ممکن ہے نہ کریں۔ ہمارے پاس کئی آپشنز ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ان کے پاس کوئی دفاع موجود ہے، ہم اسے بہت آسانی سے اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں۔خلیج کے شمال میں ایران کے ساحل سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع اس جزیرے پر مارچ کے وسط میں امریکی حملہ بھی ہو چکا ہے۔یہ جزیرہ ایران کی سب سے بڑی تیل بردار بندرگاہوں پر مشتمل ہے اور امریکی بینک جے پی مورگن کے مطابق یہ ملک کی خام تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات فراہم کرتا ہے۔مزید برآں امریکی صدر نے اتوار کو اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز سے 20 تیل بردار جہازوں کی گزرگاہ سے متعلق مذاکرات کیے ہیں، جسے تہران جنگ کے آغاز سے عملی طور پر بند کیے ہوئے ہے، جس کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande