اس انٹرویو میں جانیں امریکہ۔ہند تعلقات کو اکیسویں صدی کی فیصلہ کن اسٹریٹجک شراکت داری میں ڈھالنے اور دونوں ممالک کے لیے واضح فوائد فراہم کرنے کے بارے میں ہندوستان میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور کے خیالات۔
از: چاروی اروڑا
امریکی سفارت خانہ نئی دہلی
سفیر سرجیو گور ہندوستان میں امریکہ کے 27 ویں سفیر ہیں۔ وہ عوامی خدمت، سیاسی ابلاغ اور واشنگٹن میں اسٹریٹجک قیادت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ اس سے قبل وہ وہائٹ ہاوس میں صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ کے معاون اور صدارتی عملہ کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں انہوں نے وفاقی حکومت میں ہزاروں سیاسی تقرریوں کے عمل کی نگرانی کی۔قیادت اور عوامی روابط میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل سفیر گور کی مہارت، امریکہ کی کلیدی اسٹریٹجک شراکت داریوں میں سے ایک کو موثر انداز میں آگے بڑھانے میں ان کی راہنمائی کرتی ہے۔
نئی دہلی میں سفیر گور دفاع، تجارت اور اہم ٹیکنالوجی جیسے ان شعبوں میں امریکہ۔ہند تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے نتائج پر مبنی نقطہ نظر کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے طویل مدتی اسٹریٹجک اہداف کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسپَین کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے ہندوستان کے بارے میں اپنے ابتدائی تاثرات بیان کیے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو مزید گہرائی اور گیرائی عطا کرنے کے لیے اپنی ترجیحات کا خاکہ پیش کیا۔
ہندوستان کے بارے میں آپ کے ابتدائی تاثرات کیا ہیں ، اور اس تقرری کے کون سے پہلو آپ کو سب سے زیادہ پر جوش کرتے ہیں؟
میں تقریباً 15 سال قبل اپنے خاندان کے ساتھ پہلی بار ہندوستان آیا تھا۔ اس سفر کا اثر آج تک میرے ذہن سے محو نہیں ہوا۔ یہاں کی ثقافت، تاریخ، رنگا رنگی اور ملک کی حیرت انگیز کہانی، اور اس کے ساتھ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو اگلی سطح تک لے جانے کی صلاحیت، یہ سب اس تقرری کو میرے لیے بے حد پرکشش بناتے ہیں۔ تاہم، جس چیز نے مجھ پر سب سے گہرا اثر چھوڑا وہ یہاں کے لوگوں کی گرمجوشی اور مہربانی تھی۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اتنے برس بعد اور مختلف حالات میں دوبارہ ہندوستان آ کر بھی میں نے ہندوستانی عوام کی دوستانہ طبیعت میں ذرا بھی کمی محسوس نہیں کی۔ اس دوستانہ رویے کی توسیع امریکہ اور ہندوستان کی اعلیٰ قیادت کے درمیان بھی نظر آتی ہے۔ صدر ٹرمپ، وزیر اعظم مودی کو ایک حقیقی دوست سمجھتے ہیں، اور ان کا حقیقی تعلق ہمارے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود مضبوط تعلقات کو مزید تقویت دیتا ہے۔ دونوں تعلقات کو مزید گہرا کرنا اور باہمی فائدے کے مقاصد کے لیے مل کر کام کرنا بڑے اعزاز کی بات ہے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی طور پر کام کرنے کے تجربے نے ہندوستان میں امریکی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے آپ کے انداز کو کس طرح متاثر کیا ہے؟
صدر ٹرمپ سیاست میں سب سے زیادہ محنت کرنے والی شخصیت ہیں۔ وہ تیزی سے کام کرتے ہیں اور نتائج کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کا نتائج پر مبنی انداز یہ تقاضا کرتا ہے کہ میں ہر صبح سفارت خانے میں ایک مقصد کے ساتھ داخل ہوں۔ میرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ میں امریکی عوام کے لیے کوئی ٹھوس اور مثبت نتیجہ کیسے فراہم کر سکتا ہوں۔ میری ہر فون کال اور ہر ملاقات کا مقصد کسی معاہدے کو حتمی شکل دینا یا امریکہ کے لیے کامیابی حاصل کرنا ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے صدر خود کام کرتے ہیں۔ ہمارا ایک سادہ ہدف ہے: امریکہ کے لیے نتائج فراہم کرنا اور ساتھ ہی اپنے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا۔
آپ کے خیال میں امریکہ۔ہند تعاون کے کن شعبوں میں جدت، اقتصادی ترقی اور ٹیکنالوجی کی پیش رفت کو آگے بڑھانے کی سب سے زیادہ امکانات موجود ہیں؟
دفاع اور سلامتی میں تعاون ہماری شراکت داری کا سب سے زیادہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل شعبہ ہے۔ امریکہ۔ہنداہم دفاعی شراکت داری مسلسل مستحکم ہو رہی ہے اور اس میں ایک نئے 10 سالہ فریم ورک کے منصوبے، دفاعی صنعتی تعاون میں اضافہ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں اشتراک، اور آپریشنل ہم آہنگی شامل ہیں۔اقتصادی سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبے میں توسیع میں بھی اسی قدر تبدیلی لانے کے امکانات موجو د ہیں۔ صدر ٹرمپ کا ہدف دوطرفہ تجارت کو اس طرح فروغ دینا ہے کہ امریکی کاروباروں اور کارکنوں کے لیے بے مثال مواقع پیدا ہوں۔ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی معیشت اور وسیع بنیادی ڈھانچے کی ضروریات توانائی، ہوابازی ، جدید پیداوار اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے امریکی مہارت کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔ یہ سرمایہ کاریاں دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہ ہماری طویل مدتی اسٹریٹجک شراکت داری کی اقتصادی بنیاد کو مضبوط بھی کرتی ہے۔ سادہ الفاظ میں، ہمارے سامنے دونوں جانب کے لیے سودمند صورت حال موجود ہے۔
آپ امریکہ۔ہند دفاعی و بحری تعاون کے مستقبل کو کس طرح دیکھتے ہیں، اور ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کون سے اقدامات کر سکتے ہیں؟
ہندوستان ایک اہم دفاعی شراکت دار ہے ، اور دفاعی تعاون ہمارے دوطرفہ تعلقات کے سب سے روشن پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ ہم فوجی مشقوں جیسے مالابار، ٹائیگر ٹرائمف اور کوپ انڈیا میں شرکت کے ذریعے امریکہ۔ہند عسکری باہمی مطابقت کو بھی مضبوط بنا رہے ہیں۔دونوں ممالک کواڈ کے بھی رکن ہیں، جو ایک اسٹریٹجک شراکت داری ہے اور ہمارے سلامتی کے مفادات کو مضبوط اور ہم آہنگ رکھتی ہے۔ یہ تین بنیادی عناصر، یعنی سفارت کاری، دفاعی مشقیں اور عسکری فروخت، مضبوط اور مسلسل دفاعی تعاون کو یقینی بناتے ہیں۔ اگر یہ عناصر برقرار رہیں تو میرے خیال میں ہمارے دفاعی تعلقات فطری طور پر مزید مضبوط ہوں گے۔
اہم معدنی وسائل کے تحفظ اور مضبوط، جدید پیداوار سے متعلق رسد فراہمی کی تعمیر میں امریکہ اور ہندوستان کے درمیان تعاون کے کیا امکانات ہیں؟
مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ان امکانات کی بنیاد انتہائی مضبوط ہے۔ مثال کے طور پر، امریکہ۔ہندکامپیکٹ فریم ورک سیمی کنڈکٹرس، اہم معدنیات اور ادویات کے لیے مضبوط رسد فراہمی کے تسلسل کی تعمیر کو ترجیح دیتا ہے۔ حال ہی میں، اے آئی امپیکٹ سمٹ کے آخری دن، ہندوستان ہمارے پیکس سیلیکا اعلامیہ کا دسواں دستخط کنندہ ملک بنا۔ پیکس سیلیکا کا مقصد اہم معدنیات کی پروسیسنگ صلاحیت اور اے آئی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے ذریعے امریکہ۔ہندکے اقتصادی اور قومی سلامتی کے مفادات کو مزید ہم آہنگ کرنا ہے۔سیاسی اور مالیاتی عزم کا یہ امتزاج اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہماری رسد فراہمی کا تسلسل کسی ایک کا مرہونِ منت نہ ہو۔ اس سے خطرات میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔
جنوبی اور وسطی ایشیا میں بدلتے ہوئے اسٹریٹجک حالات کے تناظر میں علاقائی استحکام، اقتصادی روابط اور طویل مدتی سلامتی کے فروغ میں آپ امریکہ کے کردار کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
امریکہ ان دونوں خطوں میں اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک مرکزی سہولت کار کے طور پر منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ وسطی ایشیا میں، قزاقستان اور ازبکستان نے امریکی کمپنیوں کے ساتھ اہم سرمایہ کاری کے معاہدوں پر اتفاق کیا ہے، جو اہم معدنیات، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے وسائل کی ترقی میں مدد دیتے ہیں، اور ساتھ ہی امریکی روزگار کو بھی تقویت دیتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں، ہندوستان کے ساتھ ہمارا ازسرِ نو تشکیل پانے والا تجارتی معاہدہ علاقائی اقتصادی انضمام کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
سلامتی کے حوالے سے، امریکہ دہشت گردی، پرتشدد انتہا پسندی اور سرحد پار جرائم کے خلاف شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سلامتی اوراقتصادی خوشحالی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ مستحکم ممالک سرمایہ کاری کو متوجہ کرتے ہیں، اور جائز اقتصادی مواقع جرائم اور انتہا پسندی کی کشش کو کم کرتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت تیزی سے معیشتوں اور معاشروں کو نئی شکل دے رہی ہے۔ آپ امریکہ اور ہندوستان کو مصنوعی ذہانت کے فوائد سے بھر پور استفادہ کرنے اور اس کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کس طرح مل کر کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں؟
چند ہفتے قبل میں نے خود دیکھا کہ اے آئی جدت میں امریکہ اور ہندوستان کی شراکت داری کے امکانات کس قدر وسیع ہیں۔ نئی دہلی نے اے آئی امپیکٹ سمٹ کی میزبانی کی، جو سرکاری اور نجی شعبے کے شراکت داروں کے لیے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی سمت متعین کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اب ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ ہم اسے اپنے فائدے کے لیے کیسے استعمال کریں؟
اس کا جواب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کے تحت کوئی عالمی انتظامی بورڈ یہ طے کرے کہ آپ مصنوعی ذہانت کو کس طرح استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں۔ یہ ایک پیچیدہ اور مسلسل ارتقا پذیر مسئلہ ہے، جس کے لیے امریکہ اور ہندوستان کے درمیان کھلے رابطے کی ضرورت ہے۔
آنے والے برسوں میں امریکہ۔ہندشراکت داری کے لیے آپ کا وڑن کیا ہے، اور اپنے دورِ تعیناتی کے دوران آپ کن اہم سنگِ میل کو حاصل ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں؟
میرا وژن یہ ہے کہ امریکہ۔ہند تعلقات کو اکیسویں صدی کی ایک فیصلہ کن اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کیا جائے، یعنی ایسی شراکت داری جو ہمارے دونوں ممالک کے لیے ٹھوس فوائد فراہم کرے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس شراکت داری کے مثبت نتائج عام شہریوں تک پہنچیں، امریکی کسان ہندوستانی منڈیوں میں زیادہ سامان فروخت کریں، توانائی اور طب میں مشترکہ تحقیق سے نمایاں پیش رفت ہو، اور دونوں ممالک کی افواج ہند۔بحرالکاہل خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے مل کر کام کریں۔ امریکہ۔ہند تعلقات مشترکہ جمہوری اقدار، باہمی خوشحالی اور مشترکہ سلامتی کے مفادات پر مبنی ہیں، جو آنے والی نسلوں تک عالمی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan