
نئی دہلی، 27 مارچ (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سمیر سنگھ سولنکی نے جمعہ کو راجیہ سبھا میں قبائلی علاقوں میں تبدیلی مذہب کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر کسی کو مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے لیکن دھوکہ دہی، زبردستی یا لالچ کے ذریعے تبدیلی مذہب قانونی جرم ہے۔ تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے۔ اس کے تحت مذہب تبدیل کرنے والے قبائلی لوگوں کے ریزرویشن کو منسوخ کیا جائے۔ ان کو بھی ڈی لسٹ کیا جائے۔ یہ لوگ قبائلی برادری کے حقوق کو پامال کر رہے ہیں۔
سولنکی نے کہا کہ اگرچہ بہت سی ریاستوں میں تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیے قوانین بنائے گئے ہیں، لیکن ملک بھر میں اب بھی ایک سخت قانون کی ضرورت ہے جو قبائلی لوگوں کے حقوق اور ثقافتی شناخت کا تحفظ کر سکے۔ سولنکی نے کہا کہ تبدیلی مذہب ہمارے ملک کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئی ہے، اور ہمیں اس سے نمٹنا چاہیے۔ قبائلی سماج نے ہمیشہ سناتن دھرم، ثقافت اور روایات میں یقین رکھا ہے، لیکن آج تبدیلی مذہب کی وجہ سے قبائلی سماج کی شناخت خطرے میں ہے، جس پر ہم سب کو تشویش ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آج دھوکہ دہی اور دھمکی کے ذریعے تبدیلی مذہب کی جا رہی ہے۔ لوگوں کو نوکریوں، علاج معالجے اور تعلیم کا لالچ دے کر اور توہم پرستی اور غلط فہمی پھیلا کر مالیاتی لالچ دے کر تبدیلی مذہب کی جا رہی ہیں۔ شادیوں کے ذریعے تبدیلی مذہب کی جا رہی ہے، اجتماعی تبدیلی مذہب کی جا رہی ہیں، جو کہ منظم جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ کھیل کئی ریاستوں میں چل رہا ہے۔ اس کے ذریعے قبائلی ثقافت، روایات، رسم و رواج، عبادت کے طریقے اور قبائلی شناخت کو بتدریج تباہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ کئی سماجی تنظیموں اور ہمارے قبائلی عوامی نمائندوں نے تبدیلی مذہب کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی