پٹرول - ڈیزل پر اضافی ایکسائز ڈیوٹی میں کٹوتی، قیمتوں میں کمی متوقع
نئی دہلی، 27 مارچ (ہ س)۔ مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے مرکزی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیٹرول پر خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی 10 روپے فی لیٹر کم کردی گئی ہے۔ اس کمی کے بعد پیٹرول پر خصوصی اضافی ایکس
Petrol-Diesel-Excise-Duty-Cut


نئی دہلی، 27 مارچ (ہ س)۔ مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے مرکزی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیٹرول پر خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی 10 روپے فی لیٹر کم کردی گئی ہے۔ اس کمی کے بعد پیٹرول پر خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی 13 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 3 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل پر خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی کو کم کر کے صفر کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ڈیزل پر 10 روپے فی لیٹر کی شرح سے خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جاتی تھی۔ مرکزی حکومت کے اس قدم سے صارفین کو راحت ملنے کی امید ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری جنگ نے خام تیل اور گیس کی عالمی سپلائی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی سپلائی تقریباً بند ہو گئی ہے۔ اس سے مانگ کے مقابلہ میں سپلائی میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے خام تیل کی قیمت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس جنگ کے دوران کئی خلیجی ممالک پر حملوں سے خام تیل کی سپلائی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی ) پر دباو¿ ڈالا ہے۔ ابھی چند روز قبل، سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پریمیم پیٹرول کی قیمت میں دو روپے فی لیٹر سے زیادہ اضافہ کیا تھا۔ بلک یعنی صنعتی ڈیزل کی قیمت میں بھی اضافہ کیا گیا تھا۔ اس اضافے کے بعد دہلی میں پریمیم 95 آکٹین پیٹرول کی قیمت 99.89 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 101.89 روپے ہو گئی، جب کہ بلک یعنی صنعتی ڈیزل کی قیمت 87.67 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 109.59 روپے ہو گئی۔

اسی طرح، نجی شعبے کی سب سے بڑی ایندھن خوردہ فروش،نائرا انرجی نے ملک میں پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ کیا۔ اس اضافے کے بعد، مختلف ریاستوں میں نائرا انرجی کے 6,967 پیٹرول پمپس پر ریاستی حکومت کے عائد کردہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس (ویٹ) اور دیگر ریاستی ٹیکسز کی وجہ سے نائرا انرجی کے پیٹرول کی قیمت میں 5.30 تک کا اضافہ ہو گیا تھا۔

ہندوستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا 85 فیصد سے زیادہ بین الاقوامی منڈی سے حاصل کرتا ہے۔ اس درآمد کا ایک اہم حصہ آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔ ایران پر امریکی اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے اس اہم سمندری راستے کی ناکہ بندی کر دی ہے جس سے مال بردار بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔ اگرچہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ دشمن ممالک کے بحری جہازوں کو اس راستے سے آمدورفت کی اجازت نہیں دی جائے گی، لیکن ہندوستان جیسے دوست ممالک کے بحری جہاز کچھ شرائط کے تحت اس راستے سے گزر سکتے ہیں۔ جہاں کچھ آئل ٹینکرز اور گیس سے بھرے بحری جہاز اس راستے سے ہندوستان پہنچ چکے ہیں، وہیں بہت سے بحری جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے خام تیل اور گیس کا مسلسل بحران ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande