
چنڈی گڑھ، 25 مارچ (ہ س)۔ پنجاب پولیس نے عصمت دری اور دیگر الزامات کا سامنا کر رہے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ایم ایل اے ہرمیت سنگھ پٹھان ماجرا کو مدھیہ پردیش کے سنور حلقے سے گرفتارکر لیا ہے۔ پٹھان ماجرا کئی ماہ سے مفرور تھے۔ یکم ستمبر 2025 کو ہرمیت سنگھ پٹھان ماجرا کے خلاف ایک خاتون نے پٹیالہ، پنجاب کے سول لائنز پولیس اسٹیشن میں عصمت دری، دھوکہ دہی اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
خاتون نے الزام لگایا کہ 2013-2014 سے 2024 تک (خاص طور پر 12 فروری 2014 سے 12 جون 2024تک ) پٹھان ماجرا نے شادی کا لالچ دے کر ، خود کو طلاق شدہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کے ساتھ جسمانی تعلقات بنائے۔ ان کی شادی 2021 میں لدھیانہ کے ایک گرودوارے میں ہوئی تھی، لیکن پٹھان ماجرا پہلے ہی شادی شدہ تھے۔
پٹھان ماجرا کو بعد میں 2 ستمبر کو کرنال، ہریانہ میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن وہ گولی باری اور پتھراو¿ کے درمیان پولیس کی حراست سے فرار ہوگئے تھے۔ اس دوران ایک پولیس افسر زخمی ہو گیا تھا۔ اس کے بعد معاملہ عدالت میں پہنچا۔
دسمبر 2025 میں پٹیالہ کی ایک عدالت نے انہیں مفرور قرار دیا تھا۔ اس کے بعد خبریں سامنے آئیں کہ وہ آسٹریلیا فرار ہو گئے ہیں اور وہاں سے انٹرویو دیا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے لک آو¿ٹ نوٹس جاری کیا۔
پٹیالہ کے ایس ایس پی ورون شرما نے بتایا کہ انہیں مدھیہ پردیش میں گوالیار کے قریب شیو پوری ضلع میں منگل کی دیر رات گرفتار کیا گیا۔ ملزم ایم ایل اے کے ساتھ اس کے تین ساتھیوں کو بھی گرفتار کر لیاگیا ہے۔ ملزم کو پٹیالہ لایا گیا ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد