
واشنگٹن،25مارچ(ہ س)۔پینٹاگون متوقع طور پر مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کو مشرق وسطیٰ بھیجنے والا ہے۔ ان میں پینٹاگون کے 82ویں ایئر بورن ڈویڑن سے وابستہ اہلکار شامل ہوں گے۔یہ بات معاملے سے جڑے دو مختلف ذمہ دار افراد نے 'روئٹرز' کو بتائی ہے۔'روئٹرز' کے مطابق صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے باوجود خطے میں اپنی فوجی نفری کو فوری بڑھا لیا جائے۔ امریکی حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ اس نئی فوجی نفری کو مشرق وسطیٰ کے کس علاقے میں تعینات کیا جا رہا ہے اور ان کے مشرق وسطیٰ پہنچنے کی متعین تاریخ اور وقت کیا ہے۔ تاہم اس وقت یہ فوجی شمالی کیرولینا میں موجود ہیں۔امریکی فوج نے اس پیش رفت سے متعلق سوال کو وائٹ ہاو¿س کو بھجوادیا ہے۔ جس کی طرف سے فوری طور پر جواب سامنے نہیں آیا ہے کہ امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی کے باوجود اس نئے فوجی بلڈ اپ کی مشرق وسطیٰ میں فوری کیا ضرورت ہے۔ایک اور امریکی ذریعے نے 'روئٹرز' کو بتایا کہ ابھی تک ایران میں فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ تاہم آئندہ کے آپریشنز کی ضرورت کے لیے خطے میں نفری بڑھائی جا سکتی ہے۔یاد رہے پچھلے ہی ہفتے امریکہ نے ہزاروں کی تعداد میں میرینز کو ایران کی سرکوبی کے لیے بھیجا ہے۔ تاہم اس دوران اطلاعات ہیں کہ امریکہ کے دو بحری بیڑے ایرانی آبی سرحدوں سے دور نکل آئے ہیں۔تاہم ماہرین صدر ٹرمپ کی طرف سے ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں کی گئی پانچ روزہ جنگ بندی کے دوران اس نئے فوجی بلڈ اپ پر حیرانی کا اظہار کرتے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan