امریکہ میں ہوم لینڈ سیکورٹی ڈپارٹمنٹ کی بجٹ فنڈنگ اور سرحدی حفاظت پر رسہ کشی جاری
امریکہ میں ہوم لینڈ سیکورٹی ڈپارٹمنٹ کی بجٹ فنڈنگ اور سرحدی حفاظت پر رسہ کشی جاری واشنگٹن، 25 مارچ (ہ س)۔ امریکہ میں بجٹ فنڈنگ اور سرحدی حفاظت کے معاملے پر ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔ سینیٹ ڈیموکریٹس نے منگل کو کہا
واشنگٹن میں نیویارک کے سینیٹر چک شومر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے۔ فوٹو: انٹرنیٹ میڈیا


امریکہ میں ہوم لینڈ سیکورٹی ڈپارٹمنٹ کی بجٹ فنڈنگ اور سرحدی حفاظت پر رسہ کشی جاری

واشنگٹن، 25 مارچ (ہ س)۔ امریکہ میں بجٹ فنڈنگ اور سرحدی حفاظت کے معاملے پر ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔ سینیٹ ڈیموکریٹس نے منگل کو کہا کہ وہ ہوم لینڈ سیکورٹی ڈپارٹمنٹ (ڈی ایچ ایس) کو دوبارہ کھولنے (بجٹ فنڈنگ) کے لیے کسی بھی معاہدے کے حصے کے طور پر، امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) میں اصلاحات کے لیے زور دیتے رہیں گے۔ اس سے فنڈنگ کی رکاوٹ کا کوئی حل نکالنے کی ریپبلکن پارٹی کی کوششیں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، سینیٹ میں اقلیتی جماعت کے رہنما اور نیویارک کے سینیٹر چک شومر نے یو ایس کیپیٹل میں پریس کانفرنس میں کہا، ’’ہمیں آئی سی ای پر لگام لگانی ہوگی اور تشدد روکنا ہوگا۔ ہمیں اصلاحات کی ضرورت ہے۔‘‘ اس سے پہلے پیر کی دیر رات بات چیت میں ایک بڑی کامیابی ملنے کے بعد سینیٹ ریپبلکنز نے منگل کو ڈیموکریٹس کو ایک باضابطہ تجویز بھیجی۔ ریپبلکنز کے ایک گروپ نے پیر کی شام وائٹ ہاوس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی اور ایک ممکنہ معاہدے کے حوالے سے پرامید ہو کر کیپیٹل واپس لوٹے۔ جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کوئی حل ہے تو الباما کی سینیٹر کیٹی برٹ نے کہا، ’’جی ہاں، ہمارے پاس ہے۔‘‘

لیکن منگل کی دوپہر ایک اہم اجلاس کے بعد ڈیموکریٹس نے اس تجویز پر پانی پھیر دیا اور آئی سی ای میں اصلاحات کے اپنے مطالبات کو دہرایا۔ جنوری میں منیاپولس میں فیڈرل ایجنٹس کی فائرنگ کے واقعات کے بعد ڈیموکریٹس نے اصلاحات کے بغیر اس ایجنسی کو فنڈ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ شومر نے کہا کہ ریپبلکن پارٹی کی تجویز میں امیگریشن ایجنسی کے لیے کوئی اصلاحات شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت ابھی جاری ہے اور ہم انہیں اپنی تجویز واپس بھیجیں گے۔ شومر نے کہا، ’’اور میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ اس میں کافی اہم اصلاحات شامل ہوں گی۔‘‘

ساوتھ ڈکوٹا کے ریپبلکن سینیٹ میجورٹی لیڈر جان تھون نے صحافیوں کو بتایا کہ ریپبلکن پارٹی کی تجویز ڈی ایچ ایس کے بجٹ کا 94 فیصد حصہ فنڈ کرے گی۔ آئی سی ای کے ڈیپورٹیشن ونگ (انفورسمنٹ اینڈ ریموول آپریشنز) کے لیے 5.5 بلین ڈالر محفوظ رکھے جائیں گے۔ تھون نے منگل کو کہا کہ ’’کئی اصلاحات آئی سی ای کی فنڈنگ پر منحصر ہیں۔‘‘

سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی طرف سے فنڈنگ کے معاملات کی سربراہ واشنگٹن کی سینیٹر پیٹی مرے نے صاف کر دیا کہ ڈیموکریٹس معمولی اصلاحات کے لیے مسلسل زور دے رہے ہیں۔ ان کی بنیادی شرط یہ ہے کہ اصلاحات کو قانون کی شکل ضرور ملنی چاہیے۔ ادھر، حالیہ ہفتوں میں ڈیموکریٹس اور وائٹ ہاوس کے درمیان تجاویز کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے سینیٹرز کے ایک دو طرفہ گروپ نے سرحدی معاملات کے سربراہ (بارڈر جار) ٹوم ہومن سے دو بار ملاقات کی۔ یہ سب اس تعطل کو ختم کرنے کے بڑھتے ہوئے دباو کے درمیان ہوا۔

مرے نے کہا کہ آئی سی ای اصلاحات کے لیے زور دیتے ہوئے ان کی اور سینیٹ کے دیگر ڈیموکریٹس کی وائٹ ہاوس کے ساتھ بامعنی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ یہ ملاقاتیں تب اور بھی زیادہ کارآمد ہوتیں، اگر صدر سوشل میڈیا پر مسلسل نئے اور بے تکے مطالبات نہ کرتے۔ انہوں نے کہا، ’’ریپبلکن کے ساتھ کسی بات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، جب یہ واضح ہی نہ ہو کہ ان کے اپنے ہی لوگوں کے درمیان کوئی اتفاقِ رائے ہے یا نہیں۔‘‘

صدر ٹرمپ نے پیر کو ڈی ایچ ایس کی فنڈنگ پر جاری بات چیت میں تب رکاوٹ ڈال دی، جب انہوں نے ریپبلکن سے کہا کہ وہ کوئی معاہدہ نہ کریں۔ انہوں نے دلیل دی کہ ارکانِ پارلیمنٹ کو ڈی ایچ ایس کی فنڈنگ کو ’’سیو امریکہ ایکٹ‘‘ سے جوڑ دینا چاہیے۔ صدر گزشتہ کئی ہفتوں سے ارکانِ پارلیمنٹ پر اس انتخابی بل کو منظوری دینے کا دباو ڈال رہے ہیں۔ اس بل کے تحت، ووٹنگ رجسٹریشن کرانے کے لیے شہریت کا ثبوت دینا ضروری ہوگا اور ووٹ ڈالنے کے لیے فوٹو شناختی کارڈ دکھانا لازمی ہوگا۔ ڈیموکریٹس اس بل کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاوس میں کہا کہ ڈیموکریٹس نے معاہدے کو توڑ دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande