ٹرمپ نے ایران جنگ کے خاتمے کیلئے15 نکاتی امریکی منصوبہ پیش کیا
تل ابیب،25مارچ(ہ س)۔اسرائیلی چینل 12 نے منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے 15 نکات پر مشتمل ایک دستاویز تیار کر رہا ہے، جس میں ایک ماہ کی جنگ بندی شامل ہے، اس دوران غزہ اور لبنان جیسے سابقہ معاہدوں کی طرز پر ایک ف
ٹرمپ نے ایران جنگ کے خاتمے کیلئے15 نکاتی امریکی منصوبہ پیش کیا


تل ابیب،25مارچ(ہ س)۔اسرائیلی چینل 12 نے منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے 15 نکات پر مشتمل ایک دستاویز تیار کر رہا ہے، جس میں ایک ماہ کی جنگ بندی شامل ہے، اس دوران غزہ اور لبنان جیسے سابقہ معاہدوں کی طرز پر ایک فریم ورک معاہدے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔چینل 12 کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف کے ساتھ مل کر اس دستاویز کے ذریعے تنازع ختم کرنے کا طریقہ کار تیار کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں ایک ماہ کی جنگ بندی شامل ہے، جس کے دوران مذاکرات کے دروازے کھولے جائیں گے تاکہ ایک جامع معاہدے تک پہنچا جا سکے، جبکہ ایرانی جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں اور دیگر کڑی شرائط بھی عائد کی جائیں گی۔

تاہم تہران کی جانب سے اس منصوبے کی منظوری کے امکانات پر شکوک و شبہات برقرار ہیں، جبکہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکہ ایک عمومی فریم ورک معاہدے کی طرف بڑھ سکتا ہے اور تکنیکی تفصیلات کو بعد کے مراحل تک مو¿خر کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس دستاویز میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

1- ایک ماہ کے لیے جنگ بندی۔

2- ایران کی جمع کی گئی جوہری صلاحیتوں کا خاتمہ۔

3- ایران کا اس بات کا عہد کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

4- ایرانی سرزمین پر کسی بھی قسم کی جوہری افزودگی (یورینیم افزودگی) کا خاتمہ۔

5- تمام افزودہ مواد کو طے شدہ ٹائم لائن کے تحت بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حوالے کرنا۔

6- نطنز، اصفہان اور فردو کی تنصیبات کو بند کر کے تباہ کرنا۔

7- بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو ایران کے اندر تمام معلومات تک مکمل رسائی دینا۔

8- خطے میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں (پراکسیز) کی پالیسی ترک کرنا۔

9- ان گروہوں کی مالی اور عسکری مدد مکمل طور پر بند کرنا۔

10- آبنائے ہرمز کو ایک آزاد بحری گزرگاہ کے طور پر کھلا رکھنے کی ضمانت دینا۔

11- ایرانی میزائل پروگرام پر بعد میں بات چیت، جس میں تعداد اور حدِ مار پر پابندیاں شامل ہوں گی۔

12- ایران کی عسکری صلاحیتوں کو صرف دفاعِ خود تک محدود رکھنا۔

13- ایران پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ۔

14- بوشہر میں بجلی کی پیداوار کے لیے سول جوہری منصوبے کی ترقی میں تعاون فراہم کرنا۔

15- ''اسنیپ بیک'' (یعنی پابندیوں کی خودکار بحالی) کے طریقہ کار کو ختم کرنا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب دونوں فریقوں کے درمیان فوجی کشیدگی جاری ہے اور امریکی فوج ایران کے اندر ہزاروں فوجی اہداف کو تباہ کرنے کا دعویٰ کر چکی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔امریکی اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایک جانب فوجی دباو¿ برقرار رکھتے ہوئے دوسری جانب مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے، تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ آیا ایران ان شرائط کو قبول کرے گا اور کیا واشنگٹن تمام فریقوں کی پابندی کو یقینی بنا سکے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande