وزیر اعلیٰ نے سمردھی یاترا کے تحت بھوجپور میں منعقدجن سموادپروگرام میں شرکت کی
پٹنہ 25 مارچ(ہ س)۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار آج بھوجپور ضلع کی زرعی پیداوار بازار سمیتی آرا میں منعقد جن سمواد پروگرام میں شامل ہوئے۔ جن سموادپروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپ بڑی تعداد میں یہاں موجود ہیں میں تمام لوگوں کا خیر مقدم کر
وزیر اعلیٰ نے سمردھی یاترا کے تحت بھوجپور میں منعقدجن سموادپروگرام میں شامل ہوئے


پٹنہ 25 مارچ(ہ س)۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار آج بھوجپور ضلع کی زرعی پیداوار بازار سمیتی آرا میں منعقد جن سمواد پروگرام میں شامل ہوئے۔ جن سموادپروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپ بڑی تعداد میں یہاں موجود ہیں میں تمام لوگوں کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔آپ سب جانتے ہیں کہ بہار میں پہلی مرتبہ24 نومبر 2005 کو این ڈی اے کی حکومت بنی تھی، تب سے ریاست میں قانون کی حکمرانی ہے اور ہم بہار کی ترقی کے لئے مسلسل کام کررہے ہیں ۔پہلے بہار کی حالت بہت خراب تھی۔ لوگ شام کے بعد گھر وں سےباہر نہیں نکلتے تھے۔ سماج میں تنازعہ ہو تا تھا ،ہندو مسلم جھگڑا ہوتا تھا ،پڑھائی کی کیا تھی۔ بہت کم بچے پڑھتے تھے۔پہلے علاج کا بھی مکمل انتظام نہیں تھا۔ سڑکیں بہت کم تھیں اور جو تھیں ان کا بہت برا حال تھا ۔بجلی بہت کم جگہوں پر تھی ۔ اب کسی بھی طرح کے خوف اور دہشت کا ماحول نہیں ہے۔ریاست میں محبت ،بھائی چارہ اور امن کا ماحول ہے۔پہلے کتنا ہندو مسلم تنازعہ ہوتا تھا، اس لئے سال 2006سے ہی، قبرستانوں کی گھیرا بندی شروع کی گئی ۔ بڑے پیمانے پر قبرستانوں کی گھیرا بندی کی جا چکی ہے۔اب کوئی تنازعہ نہیں ہو تا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سال 2016 سے، 60 سال قدیم ہندو مندروں کی بھی گھیرا بندی کا کام شروع کیا گیا،جس سے چوری وغیرہ کے واقعات نہیں ہو تے ہیں۔ ہم لوگوں نے تعلیم کے شعبہ میں خصوصی توجہ دی ۔ ہم لوکوں نے کنٹریکٹ ٹیچروں کی بحالی کی، بڑی تعداد میں نئے اسکول کھولے اورسرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا و طالبات کے لیے سائیکل اور پوشاک منصوبہ چلا یا گیا۔ سال 2023 سے، بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ 2لاکھ 58ہزار سرکاری اساتذہ کی بحالی کی گئی۔ 2006 سے 3لاکھ 68ہزار کنٹریکٹ اساتذہ بحال کیے گئے تھے، جن میں سے بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 28ہزار 976 سرکاری اساتذہ بن چکے ہیں۔ اس کے بعد، حکومت نے فیصلہ کیا کہ کنٹریکٹ اساتذہ کو بی پی ایس سی کا امتحان دینے کی ضرورت نہیں ہے ،انہیں معمولی سا امتحان لے کر سرکاری اساتذہ بنایا جائے گا۔ اس کے لیے انہیں پانچ مواقع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔اب تک چار امتحانات ہو چکے ہیں، اور 2لاکھ 66ہزار کانٹریکٹ ٹیچر پاس ہو چکے ہیں۔ اب صرف 73ہزار باقی بچ گئے ہیں جنہیں ایک اور موقع دیا جائے گا۔ سرکاری اساتذہ کی کل تعداد اب 5 لاکھ 24ہزار ہوگئی ۔ اس کے علاوہ بی پی ایس سی کے ذریعہ اور 45ہزار نئے عہدوں پر بحالی شروع کی جارہی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلے، صحت کا نظام بہت خراب تھا، صرف 39 مریض پرائمری ہیلتھ سینٹر میں ہر ماہ علاج کے Èتے تھے، یعنی یومیہ ایک یا دو مریض۔ 2006 سے، ہسپتالوں میں مفت ادویات اور علاج کامکمل انتظام کیا گیا ہے۔ اب ہرماہ اوسطاً 11 ہزار 600 سو مریض ہر ماہ پرائمری ہیلتھ میں Èتے ہیں ۔ پہلے، بہار میں صرف 6 میڈیکل کالج تھے، جن کی تعداد اب 12 ہو گئی ہے۔ اس سال 6میڈیکل کالج اور بن جائیں گے اورباقی تمام 21 اضلاع میں نئے میڈیکل کالج کی تعمیر بھی جلد پوری کی جائے گی ۔پٹنہ میڈیکل کالج اور ہسپتال کو 5 ہزار 400 بیڈاور دیگر پانچ قدیم میڈیکل کالجوں کوڈھائی ہزار بیڈ کا کیا جارہا ہے۔ساتھ ہی آئی جی آئی ایم ایس کو 3ہزار بیڈ کا بنا یا جارہا ہے ۔ آئندہ 5 برسوں میں 1 کروڑ نوجوانوں کونوکری اور روزگار دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے شروع سے تمام طبقوں کے لیے کام کیا ہے ، چاہے ہندوہوں ، مسلم ہوں ،اعلیٰ ذات ہوں ، پسماندہ ہوں ، انتہائی پسماندہ ہوں ،دلت ہو ، مہا دلت ہو ، تمام طبقوں کے لیے کام کیا گیا ہے ۔مسلمانوں کے لیے بھی ہم نے بہت کام کیا ہے مدرسوں کو سرکاری منظوری دی گئی ہے اور ان کے اساتذہ کو دیگر سرکاری اساتذہ کے مساوی تنخواہ دی جارہی ہے ۔ تمام معمر لوگوں ، معذوروں اور بیوہ خواتین کو ملنے والی پنشن کی رقم 400روپے سے بڑھا کر 1100روپے کر دی گئی ہے ۔ اس سے 1کروڑ 14لاکھ لوگوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔2023کی شماری میں لوگوں کی معاشی حالت کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی گئیں۔ اس میں 94لاکھ غریب خاندانوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں اعلیٰ ذات، پسماندہ ذات، انتہائی پسماندہ ذات، دلت، مہادلیت اور مسلمان شامل ہیں۔ ان تمام خاندانوں کو روزگار کے لیے 2 لاکھ روپے کی مدد دی جانی ہے۔ اب تک 83 لاکھ 20ہزار خاندانوں کو روزگار منصوبہ سے جوڑ کر رقم دینا شروع کیا گیا ہے باقی خاندانوں کو اگلے ماہ تک رقم دینا شروع کیا جائے گا۔ اگر ضرورت ہوئی تو، 2 لاکھ سے زیادہ رقم بھی فراہم کی جائے گی۔سال 2006میں پنچایتی راج اداروں میں اورسال 2007 میں بلدیاتی اداروں میں خواتین کے لیے 50 فیصد ریزر ویشن دیا گیا۔ اب تک چار انتخابات ہو چکے ہیں۔سال 2013 سے پولیس میں 35 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ اب بہار پولیس میں خواتین کی تعداد ملک میں سب سے زیا دہ ہے۔ 2016 سے خواتین کو تمام سرکاری ملازمتوں میں 35 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بہار میں سیلف ہیلپ گروپس کی تعداد بہت کم تھی۔ 2006 میں عالمی بینک سے قرض لے کر ریاست میں سیلف ہیلپ گروپ کی تشکیل کی گئی جس کا نام جیویکا رکھا گیا ۔اب سیلف ہیلپ گرو کی تعداد11لاکھ 5ہزار پہنچ گئی ہے، جن میں جیویکا دیدیوں کی تعداد 1کروڑ 69 لاکھ ہے۔سال 2024 سے شہری علاقوں میں بھی سیلف ہیلپ گروپ کی تشکیل کی گئی ہے جن کی تعداد 77ہزار ہو گئی ہے ، جس میں تقریبا 10لاکھ 78 ہ زار جیویکا دیدیاں ہیں اس کی تشکیل مسلسل جاری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande